اسلام آباد ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے ممکنہ دھرنے کی وجہ سے دارالحکومت میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ سڑکوں پر کنٹینرز لگائے گئے، داخلی راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موجود ہے، اور شہر میں موبائل ڈیٹا سروسز کچھ وقت کے لیے معطل کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
ٹی ایل پی کے احتجاجات اب کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ یہ جماعت جب بھی میدان میں آتی ہے، ملک کی فضا میں کشیدگی پیدا کرتی ہے۔ اس کے نعروں میں مذہبی رنگ ضرور ہوتا ہے، اور اس کے اثرات سماجی اور سیاسی ماحول پر بھی پڑتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو برسوں سے ہمارے معاشرے کے خمیر میں رچ بس گئی ہے۔ مذہب جذبات کو جگاتا ہے، اور عوامی سیاسی تحریکیں ان جذبات سے متاثر ہوتی ہیں۔
اسلام آباد کا انتخاب ہمیشہ علامتی ہوتا ہے۔ یہاں دھرنا صرف احتجاج نہیں بلکہ شہر کے انتظام اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہونے کا ایک موقع بھی ہے۔ دھرنے کے دوران اٹھنے والی
میں نے کئی برس پہلے ایک کالم میں لکھا تھا کہ "مذہبی نعروں کے پردے میں سیاسی مفادات کو آگے بڑھانا ایک پرانی روایت بن چکی ہے”۔ آج بھی یہ اصول کسی حد تک درست ہے۔ نعرے اور احتجاجی طریقے بدل سکتے ہیں، مگر عوامی جذبات اور اجتماعی مطالبات ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں سامنے آتے ہیں۔
حکومت کے اقدامات کا مقصد ہمیشہ امن قائم رکھنا، شہریوں کی حفاظت کرنا اور ملک کے نظام کو مستحکم رکھنا ہوتا ہے۔ اسلحہ یا کسی بھی خطرناک مواد کے بغیر، احتجاج کو منظم اور پرامن انداز میں رہنا چاہیے۔ اسلحہ پسندی یا تشدد کی کسی بھی شکل انسانی جانوں اور سماجی امن کے لیے خطرہ ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مکالمہ اور حکمت کے اصول پر عمل کیا جائے۔ اگر احتجاج تشدد یا انتشار کا سبب نہ بنے تو یہ ایک جائز اور معقول اظہار رائے بن سکتا ہے۔ اسی طرح مذہبی قیادت اور عوامی نمائندوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات اور جذبات کو پرامن اور قانونی دائرے میں رکھیں۔
میڈیا کا کردار اس موقع پر انتہائی اہم ہے۔ خبر سنسنی یا خوف کی بنیاد پر نہیں
آئین پاکستان ہر شہری کو احتجاج کا حق دیتا ہے، مگر یہ حق دوسروں کی زندگی یا معمولات زندگی کو متاثر کیے بغیر استعمال کیا جانا چاہیے۔ آزادی اور نظم میں توازن ہی جمہوریت اور انسانی حقوق کا اصل تقاضا ہے۔
دھرنے وقتی توجہ ضرور پیدا کرتے ہیں، مگر دیرپا حل مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی اور بات چیت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کو نعرے نہیں، سمت اور حکمت چاہیے۔ اختلاف جائز ہے، مگر انتشار اور تشدد کبھی بھی قابل قبول نہیں۔
اسلام آباد کے شہری اس وقت اضطراب اور بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں، مگر محفوظ اور منظم انتظامات کی بدولت ان کے لیے ممکنہ خطرات کم سے کم کیے جا رہے ہیں۔ ریاست مضبوط ہوگی تو عوام محفوظ ہوں گے
اسلحہ یا تشدد کی کسی بھی شکل کے بغیر، بات چیت، حکمت اور قانون کی پاسداری ہی وہ راستہ ہیں جو ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ یہی انصاف، انسانی فلاح اور معاشرتی استحکام کی اصل ضرورت ہے۔
یوسف صدیقی