دنیا میں کچھ لوگ

ایک اردو تحریر از صنم فاروق

دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ھوتے ہیں – جو خود کو بہترین ۔سمجھدار سمجھتے ہیں۔پر خقیقت اسکے برعکس ھوتی ھے۔کیونکہ ایسے لوگ دوسروں کو کمتر ۔خقیر۔ناسمجھ سمجھتے ہیں۔اور ایسے لوگ کبھی کسی کی تعریف نہی کریں گے بلکہ وہ ہر وقت تنقید وطنز و نصحتیں کرتے نظر آۓ گے۔پہلے پہل ایسے لوگوں کی سمجھ نہی آتی مگر آہستہ آہستہ احساس ھونے لگتا ھے۔کہ انسان ایک ایسے فرد کے ساتھ منسلک ھے جو نہ اسکو سمجھتا نہ قدر کرتا ھے اور نہ ہی اسے اس قابل سمجھتا ھے کہ اس کو خدا۔نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ھے۔
ہمارے معاشرہ ایسے لوگوں سے بڑا پڑا ھے۔پہلے انسان ناسمجھی میں سمجھتا ھے یہ پیار ھے احساس ھے۔مگر جب وقت کے ساتھ ساتھ اسکو احساس ھوتا اسکو درد محسوس ھوتا اپنی بیقدری کا۔پھر اسے معلوم پڑتا ھے۔
کہ اب چپ رہنا حماقت ھے۔اب وہ بولے گا۔اپنے دفاع کے لیے لڑے گا۔مگر وہ ہار جاتا ھے اسلیے کہ دوسری طرف کا فرد اپنے ہنر میں ماہر ھے۔وہ اسے بھری محفل میں ذلیل اور تنہائ میں رقیب بن۔کر دکھاۓ گا رقیب اسلیے کہ ایسے فرد۔کو اپنا سکون بہت پیارا ھوتا ھے اور بھری محفل میں اسلیے ذلیل کیونکہ اسکو پتہ ھوتا اسے اپنی عزت بہت عزیز ھے۔
یہ سب ھونے کے باوجود اب وہ مراحل آتا ھے جہاں ایک فرد ہار مان۔کر خاموش ھو جاتا ھے اور وہ خاموشی بہت گہری و طویل ھوتی ھے۔
لیکن خوشی فہمی میں مبتلا فرد کو معلوم ہی نہی ھوتا کہ وہ اپنی ذات سےجڑے اس انسان کو کھو دیتا ھے ۔جو اس کے ساتھ سب زیادہ مخلص۔محبت کرنے والا۔اس کی خاطر خود کو بدلنے والا ۔انسان۔کہلاتا تھا۔
پھر جیتنے والا ہار جاتا ھے اور ہارنے والا۔جیت جاتا ھے۔
محبت میں عزت دونوں طرف سے ہی ھو تو محبت خوبصورت ھوتی ھے۔مگر بعض اوقات محبت بوجھ کے ساتھ صرف وقت گزاری کا سبب بھی بن جاتی ھے۔

صنم فاروق حسین

عائشہ فاروق حسین

وابستہ ہے رب سے ذات ھماری ھماری روح کا جو سکون ھے۔ ذکر الہی کرنے میں رہنے والوں کا صنم رب سے الگ ہی عشقِ جنون ھے۔ رقیب تحریر