*کھا گئی زمیں آسماں کیسے کیسے ۔۔۔۔*
سرزمین کا ہیرو، ایک گوہر نایاب، محسن پاکستان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
●ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی جدائی اُس چراغ کے بجھنے جیسی ہے جو صدیوں روشنی بانٹتا رہا۔ مگر ایسے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں
●ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخص تھے جنہوں نے پاکستان کو ایک ایسا مقام دلایا جہاں کوئی دشمن میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔
●پاکستان وہ پہلا مسلم ملک بنا جس نے خود انحصار کرتے ہوئے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کی، اور اس میں ڈاکٹر خان کا پورا وژن، جدّت اور قربانی پسِ منظر تھی۔
●وہ ایک رہنما، ایک محافظ، ایک علامتِ خودی اور ایک عظیم ہدف کا چمکتا دیا تھے۔
●10اکتوبر 2021 کو پاکستان اس عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا۔ اللہ ان کی لحد کو پر شبنم افشانی کرے،جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔
●ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ چراغ تھے جنہوں نے پاکستان کے اندھیروں میں خود انحصاری کی روشنی جلائی۔
●10 اکتوبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک سائنسدان نے پوری قوم کو عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا۔
●انہوں نے لوہے کو ایٹم بنایا، اور ایٹم کو پاکستان کی ڈھال۔
●ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہمیں سکھایا کہ خواب اگر وطن کے لیے ہوں تو حقیقت بن جاتے ہیں۔
●وہ شخص چلا گیا مگر اس کی سوچ آج بھی ہر محبِ وطن کے دل میں دھڑکتی ہے۔
●سلام اُس محسنِ وطن پر جس نے قوم کے سر فخر سے بلند کیے۔
●وہ سائنسدان نہیں، ایک نظریہ تھے — خودداری، علم اور غیرت کا نظریہ۔
●ایٹم بم صرف ہتھیار نہیں، یہ پاکستان کے وقار کی علامت ہے — شکریہ ڈاکٹر قدیر خان!
●10 اکتوبر کا دن ہر پاکستانی کو یاد دلاتا ہے:
قومیں اُنہی کی بدولت زندہ رہتی ہیں جو وطن کے لیے جیتے ہیں
آج جب ہم ۱۰ اکتوبر کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی برسی پر اپنی نسل نو اور ایک دوسرے کو یاد دِلائیں گے کہ یہ عظیم انسان کون تھے، ان کی زندگی کے مقاصد کیا تھے، اور آج ہم ان کی خدمات کو کس انداز سے خراجِ تحسین پیش کر سکتے ہیں — تو یہ موقع ہے کہ نہ صرف ایک عظیم شخص کے نام پر آواز اُٹھائیں بلکہ اُس جذبے، حوصلے، قربانی اور ویژن کو اجاگر کریں جو انہوں نے ہم سب کے لیے چھوڑا ہے۔یہ تحریر ایک طویل خراجِ تحسین ہے، جس کے ذریعے ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی، جدوجہد، اور عظمت دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرنا چاہیں گے، تاکہ یہ یاد دہانی ہو کہ عظیم لوگ صرف تاریخ کے ورق نہیں بنتے — وہ مشعلِ رہبر بنتے ہیں۔ ایک نام، ایک نشانی۔۱۰ اکتوبر ۲۰۲۱ کو، پاکستان اور امتِ اسلامی نے ایک عظیم اور بے پناہ اثر رکھنے والے انسان کی جدائی برداشت کی ، جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان خوابِ بقا کی دنیا سے کوچ کر گئے۔ پُرکشش شخصیت، جسے لوگ عام طور پر لوگ محسن پاکستان جیسے القاب سے یاد کرتے ہیں، جس نے اپنی پوری زندگی ایک نشانی کی مانند گزاری۔ ان کی خدمات کا پہلو
ہر ملک کی تاریخ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنی بصیرت، عزم اور قربانی کی بدولت “مفکرِ قوم” یا “شہیدِ مشعل” بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخص تھے جنہوں نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر فائز کیا جہاں کوئی دشمن میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ انہیں صرف ایک سائنسدان یا انجینئر سے تعبیر کرنا کم ہے — وہ ایک رہنما، ایک محافظ، ایک علامتِ خودی اور ایک عظیم ہدف کا چمکتا دیا تھے۔
ابتدائی زندگی کا سفر۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جنم یکم اپریل ۱۹۳۶ کو بھارت کے شہر بھوپال میں ہوا تھا۔ بعد از تقسیمِ ہند، وہ اپنے گھرانے کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم پاکستان میں شروع کی، بعد میں بیرونِ ملک جدّتِ علم میں حصہ لینے کا عزم کیا۔
انہوں نے یونیورسٹیِ کراچی سے میٹلرجی کی تعلیم حاصل کی، پھر جرمنی اور بیلجِئیم میں اعلیٰ تعلیم کے سفر نے ان کی راہیں بدل دیں۔ وہ یونیورسٹی آف لیون میں میٹالرجیکل انجینئرنگ کا ڈاکٹریٹ کرتے ہیں۔
یہ وہ دور تھا جب دنیا نیوکلیئر توانائی کی سمت بڑھ رہی تھی، اور یورپ کے تحقیقی مراکز میں وہ نوجوان پاکستانی ذہانت نے قدم رکھا۔ وہاں انہوں نے یورینیم میٹالرجی اور گیس سنٹری فیوج ٹیکنالوجی پر کام کیا۔
یہ سفر، اگرچہ علم و تحقیق کی بلندیوں کا تھا، مگر اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ تھی کہ وہ پاکستان کے لیے کچھ عظیم کرنا چاہتے تھے — اپنے ملک کو دفاعی خودمختاری دینا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر پاکستان ایک یورینیم افزودہ قوت نہ رکھے، تو دوسری طاقتیں اس پر دبدبہ قائم کر سکتی ہیں۔
وطن کی پکار: منصوبے اور قربانیاں
۱۹۷۴ میں جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا، اس نے پورے خطے میں ایک نئی دوڑ کا آغاز کیا۔ اس حرکت نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو نیا رخ دے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس منظرنامے کو سمجھتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں۔
انہوں نے یورینیم افزودگی (enrichment) کی ٹیکنالوجی پر کام کرنا شروع کیا، اور یورپ سے سنٹری فیوج بلیو پرنٹس اور متعلقہ ٹیکنالوجی کو اپنے وطن لانے کی راہ ہموار کی۔ اس کام کے دوران انہیں جو اخلاقی، قانونی اور سیاسی دباؤ سہنا پڑا، وہ ان کی قوتِ ارادی اور حبِ وطن کی گواہی دیتا ہے۔
پاکستان نے ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کو تاریخ ساز نیوکلیئر ٹیسٹ کیے، جنہوں نے ملک کو “جوہری قوت” کا درجہ دیا۔ اس کارنامے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان وہ پہلا مسلم ملک بنا جس نے خود انحصار کرتے ہوئے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کی، اور اس میں ڈاکٹر خان کا پورا وژن، جدّت اور قربانی پسِ منظر تھی۔
تاہم، ان کامیابیوں کے دوران، ان کے سفر پر الزام تراشیاں، تنقید اور قانونی مشکلات بھی آئیں۔ ۲۰۰۴ میں تحقیقات اور تنقید کی زد میں آئے، اور حکومت وقت نے بیرونی دباؤ کی بناءپر،ان پر پابندیاں عائدکیں۔
یہ پہلو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عظمت کے راستے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔ کم تر علم یا سیاسی مفاد کی خاطر بزرگ عظیم لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، مگر ان کی کوششیں اور عزم تاریخ کی عدالت میں خود بولتے ہیں۔
دفاعی خودمختاری اور قومی سلامتی
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ ہے جو عام الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ایک "جوہری ڈٹانٹ” قوت بنا دیا۔ یعنی ایک ایسی حالت جہاں دشمن حملے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوں۔ اس نے ہماری حفاظتت کی تصویر بدل دی، اور ہماری سلامتی کو ایک نئی سطح دی۔
ان کے منصوبے نے ممالک کی آنکھوں کے سامنے یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور سلامتی کے حوالے سے خود کفیل ہونا چاہتا ہے۔ جب ملک کے اندر دشمنی، عدم توازن یا خوف کے عناصر ہوں، تو ایک ایسے دفاعی ہتھیار کا ہونا ملک کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
سائنسی ترقی اور تحقیقی بیداری
اگرچہ اکثر لوگ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صرف نیوکلیئر سائنسدان کے طور پر جانتے ہیں، لیکن ان کی دلچسپی تحقیق، ٹیکنالوجی، ایجادات اور تعلیمی فروغ میں بھی رہی۔ انہوں نے کئی تحقیقی مراکز کی بنیاد رکھی، مختلف نصابی مربوطات کو فروغ دیا، اور جوشِ تحقیق کی شمع روشن رکھی۔
ان کے نام پر “Dr AQ Khan Institute of Biotechnology and Genetic Engineering” جیسی ادارے قائم کیے گئے، تاکہ نئی نسل کو تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے۔ یہ ان کے وژن کا تسلسل ہے کہ سائنس صرف ہتھیار نہیں بلکہ علم کا دروازہ ہے جو زندگی کو بدل سکتا ہے۔
قومی جذبہ اور مثالِ حیات
ان کی شخصیت کی خوبی یہ تھی کہ وہ صرف ایک “سائنسدان” نہیں تھے، بلکہ ایک علامتِ ایمان، عزم، محبت و احترام کی ذات بھی تھے۔ وہ اپنے وطن سے محبت کرتے تھے، عام انسانوں کے دکھ پر دل رکھتے تھے، اور اخلاقی حدود کا خیال رکھتے تھے۔
یوں وہ ایک مثال بن گئے کہ کامیابی میں خود پسندی، غرور یا عیاشی نہیں، بلکہ خدمت، قربانی اور عزم ہونا چاہیے۔ آج جو لوگ سائنسی میدان میں قدم رکھتے ہیں، انہیں ڈاکٹر خان کے جذبے سے سبق لینا چاہیے — یہ کہ انسان اپنی صلاحیتیں صرف اپنی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ قوم اور امت کے لیے استعمال کرے۔
چیلنجز اور سوالات: تنقید اور مباحثے
عظیم شخصیات کے گرد تنقید اور مباحثے ہونا بھی معمول ہے۔ ڈاکٹر خان کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے بھی ہمیں اس پہلو کو نظرt انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان پر جو الزامات لگے وہ صرف بے معنی تھے۔ ان پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو تزویراتی ممالک کو فراہم کرنے کا الزام لگا، اور ان کی قانونی اور اخلاقی پوزیشن پر سوال اٹھائے گئے۔
لیکن ان مباحثوں کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی خدمات کم ہوں۔ بلکہ یہ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسانیت، سائنس اور سیاست کا امتزاج پیچیدہ ہے۔ تاریخ کا فیصلہ صبر، تحقیق اور تنقید کے بعد ہوتا ہے، اور آج ہم ایسے وقت میں ہیں کہ انصاف برتنے اور روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔
آج کا پیغام: خراجِ تحسین اور عہدِ نو
۱۰ اکتوبر کی اس برسی پر، ہم صرف ماضی کو یاد نہیں کرتے، بلکہ حاضر کو چیلنج کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی میراث کو زندہ رکھیں۔ اس کے لیے چند نکات:
تعلیم اور تحقیق کو فروغ دیں
نئی نسل کو صرف کتابی علوم نہیں بلکہ عملی تحقیق، تنقیدی سوچ اور تجرباتی علم کی تربیت دیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کو قومی مشن سمجھیں۔
قوم کو خود مختاری کی راہ پر گامزن کریں
چاہے وہ توانائی کا شعبہ ہو، دفاع کا شعبہ ہو یا ٹیم ساز شعبے، ہمیں ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم درآمدات پر انحصار کم کریں۔
اخلاقی علم اور جذبے کا امتزاج
علم صرف طاقت نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر خان ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت کے ساتھ اخلاق، ضمیر اور حب الوطنی نبھانا ضروری ہے۔
تنقید اور خود احتسابی کا دَروازہ کھلا رکھیں
اگر کسی کو کمزوریاں محسوس ہوں، اسے چھپانا نہیں بلکہ کھلے دل سے گفتگو کرنا چاہیے۔ تنقید اگر تعمیری ہو تو ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
مشترکہ عزم اور یکجہتی۔جب قوم مل کر کام کرے تو بڑی سے بڑی منزل کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خان نے خود تنہا نہیں بلکہ ایک ٹیم، ایک قوم کی حمایت سے یہ مشن آگے بڑھایا۔
ایک شاندار خراجِ تحسین۔۱۰ اکتوبر کہلاتا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا دن — مگر یہ صرف ایک یادگاری تاریخ نہیں، بلکہ ایک مشعلِ رہ ہے کہ ہم اسے ہر دن زندہ رکھیں۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم مقاصد، حبِ وطن اور تحقیقِ علم کی یکجہتی انسان کو تاریخ کے بلند و بالا مقام پر پہنچا سکتی ہے۔
وہ چلے گئے، مگر اُن کی خوشبو آج بھی وطن کی فضاؤں میں بسی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک نام نہیں تھے، ایک عہد، ایک نظریہ، ایک احساس تھے جس نے پاکستان کو سربلند کیا۔ اُن کی جدائی اُس چراغ کے بجھنے جیسی ہے جو صدیوں روشنی بانٹتا رہا۔ مگر ایسے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ آج اگر پاکستان محفوظ، باوقار اور خودمختار ہے تو اس کے پسِ پردہ اُس محسنِ وطن کی خاموش قربانی کی کہانی ہے۔ دعا ہے کہ خالقِ کائنات اُن کے درجات بلند فرمائے۔
آئیےآج ہم پاکستانی ایک دوسرے سے وعدہ کریں کہ ہم ان کے نام کو خراجِ تحسین اور ان کے مشن کو عہدِ تجدید کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ ہم دعائیں کریں کہ اللہ تعالی اُن کے درجات کو بلند کرے، ان کے جذبے کو زنده رکھے، اور ہماری نئی نسلوں کو وہ روشنی عطا کرے جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی نے روشن کی۔ آمین۔
شاہد نسیم چوہدری