تری کامرانیوں پہ مرا دل بھی مسکرائے اے مرے حسین ساتھی! تجھے کوئی غم نہ آئے کبھی راستہ نہ بھولیں ترے گھر کا یہ بہاریں تیری منزلوں کا جگنو سدا یونہی جگمگائے کبھی آنسوؤں کی شبنم تری آنکھ پر نہ اُترے نہ کوئی کرن سحر کی تمہیں بے قرار پائے
شازیہ اکبر
ایک اردو نظم از احمد حجازی
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از انور علی