تری کامرانیوں پہ مرا دل بھی مسکرائے اے مرے حسین ساتھی! تجھے کوئی غم نہ آئے کبھی راستہ نہ بھولیں ترے گھر کا یہ بہاریں تیری منزلوں کا جگنو سدا یونہی جگمگائے کبھی آنسوؤں کی شبنم تری آنکھ پر نہ اُترے نہ کوئی کرن سحر کی تمہیں بے قرار پائے
شازیہ اکبر
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی