دل میں جب راہبر ہوا آباد
تب سے ویران گھر ہوا آباد
زندگانی کہ پھر پلٹ آئی
روکھا سوکھا شجر ہوا آباد
وحشتیں ختم ہو گئیں ساری
میرے اندر کا دَر ہوا آباد
کوئی سنتا نہیں یہاں جب سے
پتھروں کا نگر ہوا آباد
درد حاصل کیا اُسے پا کر
پھر سخن کا ہنر ہوا آباد
لامکانی تو اک بہانہ ہے
خود کو وہ پھونک کر ہوا آباد
خیر اُس کی طرف سے ہے ظافِرؔ
اُس کی مرضی سے شَر ہوا آباد
محمد اویس ظافِر