دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہماری اس تحریر کا عنوان کسی شاعر کے اس شعر کا ایک مصرع ہے کہ

” عمر بھر غالب یہی بھول کرتا رہا
دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا "

اس شعر میں غالب کانام نظر آرہا ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ شعر غالب کا نہیں ہے بلکہ یہ سوشل میڈیا کی پیداوار ہے لیکن جس کسی کا بھی یہ شعر ہے اس نے بہت خوب لکھا ہے ۔میرے ناقص ذہن میں اس شعر کا مطلب یہ آتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کی اچھائیوں اور برائیوں کی طرف تو بڑی دلیری اور آگے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں یعنی زرا زرا سی بات پر رشتے بدل دیتے ہیں دوست بدل دیتے ہیں محلہ بدل دیتے ہیں شہر بدل دیتے ہیں یہاں تک کہ ملک بھی بدل دیتے ہیں لیکن اپنی ذات کی طرف دھیان نہیں دیتے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ زندگی میں آنے والے سارے مسائل کا حل اپنا آپ بدلنا ہے دیکھیئے اس کائنات کا جو خالق ہے اس نے اپنی قدرت اپنی طاقت اپنی واحد ہستی کے ہونے کا ثبوت ہمیں ہر جگہ دکھاتا ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ پر وہ اپنے خدا ہونے کے دعوے کو ہم پر طوفانوں سیلابوں زلزلوں آگ کے پھیلائو اور چند ساعتوں میں سب کچھ ادھر کا ادھر کردینے کی جھلک میں ہمیں دکھاتا ہے کیونکہ رب العالمین کی قدرت ہمیشہ اپنے آپ کو منواتی رہی ہے کیا کوئی ہے جو اس کے حکم کے خلاف دم بھی مار سکے ہے کوئی جو اس کے حکم کے خلاف کوئی سوال اٹھا سکے کوئی نہیں ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے انہیں اچھالنے میں ہمیں مزہ آتا ہے دوسروں پر طعنہ زنی کرنے پر ہم خوش ہوتے ہیں دوسروں کو مذاق کا نشانہ بنا کر ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور پھر بھی ہر وقت پریشانی کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ آخر ہم پریشان کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہم اپنا آپ بدلنے کے لیئے تیار نہیں ہیں خود کو بدلنے کی کوشش ہم کرتے ہی نہیں ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ بھئی ہم خود کو کیسے بدلیں؟ تو دراصل ہمیں خود کو بدلنے کے لیئے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا جب ہم اپنی سوچ کو بدلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری زندگی میں خودبخود تبدیلی انا شروع ہو جاتی ہے اب آپ دیکھیں کہ
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ باغ میں پھول اْگانے کے لیے مالی کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ مہکتا ہوا گلاب، مسکراتی ہوئی چمبیلی، قہقہے لگاتے ہوئے گیندے کے پھول، مختلف قسم کی خوشبو بکھیرتی کلیاں کسی کی روزانہ محنت، توجہ اور مشقت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مگر اسی باغ میں آپ نے کبھی کسی مالی کو گھاس اْگاتے دیکھا ہے؟یقینا نہیں بلکہ جب گھاس خود بخود نکلتی ہے تومالی خود اْکھاڑ پھینکتا ہے۔ تاکہ باغ کی خوبصورتی برقرار رہے۔ پھول پودے محفوظ رہیں اور ان کی افزائش ہوتی رہے۔اگر مالی خود سے پیدا ہونے والے ان غیرمطلوب پودوں کو نہ اْکھاڑے تو باغ جنگل بن جائے گا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہی معاملہ انسان ذات کا بھی ہے کہ ہمیں اپنے اندر مثبت خیالات کو لانے اور انہیں ذہن میں بٹھانے کے لیئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے جدوجہد کرنی پڑتی ہے جبکہ منفی خیالات کی بھرمار خودبخود ہوتی رہتی ہے برے خیالات آنے کا سلسلہ تیزی سے جاری رہتا ہے اور ان منفی خیالات کو روکنا آسان نہیں ایک تحقیق کے مطابق ہر انسان اپنے آپ سے روانہ کم و بیش پچاس ہزار سے زیادہ باتیں کرتا ہے اور نفسیاتی ماہرین کے مطابق ان میں 80 فیصد منفی ہوتی ہیں مثلاً مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔وہ لوگ مجھے پسند نہیں کرتے۔ مجھ سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ میں دوسروں کی طرح خوبصورت نہیں ہوں۔ میرا ذہن کمزور ہے۔میں مقرر نہیں بن سکتا۔ مجھ میں کوئی قابلیت نہیں ہے۔ میری قسمت ہی خراب ہے وغیرہ وغیرہ۔اوریہی منفی خیالات جب انسان پر حاوی ہو جاتے ہیں تو وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں شعر کے اس مصرعے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ دوسروں کی بیشمار دولت کو اور ان کے عالیشان گھر کو دیکھ کر حسد کرنے کی بجائے ان کے لیئے دعائے برکت کرنی چاہئے احساس کمتری کا شکار ہوکر ایسے لوگوں پر الٹے سیدھے الزامات لگا کر انہیں رشوت خور یا دو نمبر کہہ کر واویلا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اس کی مرضی اور حکمت کے سبب اپنے لیئے دعا کرنا سیکھ لیں کیونکہ یہ سب رب العالمین کی تقسیم ہے اور اس میں اس کی حکمت پنہا ہے وہ کسی کو دےکر آزماتا ہے اور کسی نہ دے کر جبھی تو شاعر کہا کہ

کسی کو کم ملا تو کسی کو زیادہ یہ نظام قدرت ہے
رب کی حکمت کو اگر سمجھ لیا جائے تو کیا کہنے

جب ہم رب العزت کی ہر معاملے میں حکمت اور مرضی کو سمجھ لیں گے تو ہمیں اپنے اندر تبدیلی محسوس ہونا شروع ہو جائے گی اور مثبت سوچ کی طرف رجحان ہمارا بڑھتا جائے گا منفی خیالات جنم لینا کم جائیں گے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ان منفی خیالات کو ہی مثبت سوچ میں بدلنے کی ضرورت ہے دوسروں کی طرف کیچڑ اچھالنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنا آپ صاف رکھیں یعنی دھول چہرے پر ہو تو ہمیں آئینہ صاف کرنے کی بجائے اپنے چہرے سے دھول صاف کرنا ہوگی دوسروں کے عیبوں کو دیکھنے اور انہیں اچھالنے کی بجائے اپنی غلطیوں اپنی کوتاہیوں اور اپنی کمزوریوں کی طرف دیکھنا ہوگا انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا ہوگی جب ہم اپنا آپ بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہمیں ہر انسان اچھا لگنے لگے لگا اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیئے ہمیں سب سے زیادہ اپنے ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ اپنی نسبت قائم کرنا ہوگی جو مثبت سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں جو خود بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے اردگرد ایسے لوگ بھی ہیں بس انہیں ڈھونڈنے ان تک پہنچنے اور ان سے فیض حاصل کرنے ضرورت ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید اور حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ بھی ہماری رہنمائی کے لیئے موجود ہیں اس کے علاوہ ہمارے فقہاء کی لکھی ہوئی بیشمار تصانیف ہمیں اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیئے ہر جگہ موجود ہیں یعنی راستے بہت ہیں ذرائع بہت ہیں بات صرف اپنے آپ کو بدلنے کی چاہ پر ہے اپنے آپ کو بدلنے کے لیئے سچی نیت کی ضرورت ہے کیونکہ کب تک چہرے پر جمی دھول کو صاف نہ کرنے کی بجائے ہم آئینہ صاف کرتے رہیں گے جب تک ہم ایسے ہی پریشان رہیں گے ہمارے دل و دماغ میں منفی خیالات کی بھرمار رہے گی اور ہم احساس کمتری کا شکار ہوکر دوسروں کے لیئے برا بھلا ہی سوچتے رہیں گے حسد اور کینہ پروری کا شکار رہیں اور نتیجہ صرف صفر ہی ہوگا لہذہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا آپ درست کریں اپنے چہرے پر لگی دھول کو صاف کرنے کی کوشش کریں نا کہ آئینہ صاف کرنے میں اپنے وقت کو ضائع کرتے رہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مختصر مضمون اور مختصر کوشش مگر جامع الفاظوں کے ذریعے میں نے یہ بات بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ زندگی بڑی مختصر ہے اور اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے اسے یوں فضولیات میں ضائع کرنے کی بجائے جس مقصد کے لیئے رب تعالیٰ نے ہمیں اس نعمت سے سرفراز فرمایا ہے اس کے تحت گزاریں تو ہماری یہ مختصر زندگی بہت اچھی طرح گزرے گی اور آخرت کی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی بھی بہت اچھی گزرے گی ورنہ یوں تو ہر گزرنے والا دن ہماری دنیا میں رہنے کی مدت کو کم کرتا جارہا ہے اور یہ زندگی برف کی طرح پگھلتی جارہی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں دنیاوی اور آخرت کی دونوں زندگیوں میں عافیت عطا کرے صرف اپنا محتاج رکھے کسی اور کی محتاجی سے آخری سانس تک بچاکر رکھے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے اپنی دعائوں میں یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی