دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں
یا دن کی منڈیروں پہ بھی اب گھات لگا دیں

یا جسم کی جنت سے پرے ہجر ہرا ہو
یا یونہی دلیلوں کی فصیلوں کو گرا دیں

آزار اٹھائیں ترے ہونٹوں کی پھڑک سے
اور کھال کھرچتی ہوئی وحشت کو صدا دیں

آسودہ رہیں رنگ مرے اشک سے مل کر
بس میری ہتھیلی پہ کوئی دشت بنا دیں

بھر جائے تسلی کی تمناؤں میں گریہ
کچھ دیر اگر خواب کے ہم زخم چھپا دیں

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔