ڈیم ہے یہ حمام نہیں

سیمیں کرن کا اردو کالم

مجھے یاد ہے، بہت اچھی طرح یاد ہے کہ میری ماں جو اکلوتی اولاد تھیں، ان کو وراثت میں میری نانی کا جو گھر حصے میں آیا، اس گھر کی بس کچھ مرمتیں کروائی گئی تھیں، مگر بنیادی ڈھانچہ تقسیم سے قبل کا تھا۔ حتیٰ کہ اس میں ایک لکڑی کا صوفہ بھی تھا سنا ہے کہ وہ مہاجر چھوڑ گئے تھے۔ خیر، یہ گھر پانی کے استعمال اور اسٹوریج کے لیے بڑی دلچسپ صورتحال اختیار کرتا تھا۔ یہ عجیب تو نہیں کہ ایسی صورت آپ میں سے بہت لوگوں کو پیش آئی ہوگی۔ چھوٹے سے چِپس کے فرش والے صحن میں ایک کھُرّا تھا۔ اس میں ایک کونے پر ایک قدِ آدم حمام کھڑا تھا۔ کھُرّے کے درمیان میں کچھ ٹونٹیاں تھیں جن میں ایک سرکاری پانی کی ٹونٹی تھی، ایک کھُرّے کے بالکل اوپر بنی سیمنٹ کی ٹینکی تھی اور دوسری انتہائی سمت پر ایک ہینڈ پمپ تھا۔

اب جب سرکاری پانی آتا تو پینے اور منہ ہاتھ دھونے کے لیے حمام میں بھر لیا جاتا اور ایک بڑا پائپ چند سیڑھیاں چڑھ کر ٹینکی میں ڈال دیا جاتا۔ اس ٹینکی کے اوپر ایک لکڑی کا ڈھکن تھا جسے اٹھا کر پائپ پھینکا جاتا، اور میرے لیے وہ لمحہ بڑا وحشت بھرا ہوتا۔ ڈھکن اٹھاتے ہی کائی کی بو اور دو تین موٹی چھپکلیاں گھورتی ملتیں۔ خاندان کی ضرورت اور پانی کے پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اوپر کی منزل پر باتھ روم کے اوپر ایک بڑی سیل بند سیمنٹ کی ٹینکی تعمیر کی گئی۔ اس حمام میں ہی ایک تالاب جتنا پانی ہوتا تھا کہ ایک بار اس میں زنگ لگنے سے سوراخ ہو گیا اور صبح سارا گھر پانی سے بھر گیا تھا۔

جی جناب! پانی کو خاندان کی اکائی سے لے کر شہروں، ضلعوں اور پھر صوبوں اور ملک کی ضرورت کے حساب سے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ نہ کریں تو ذرا سوچئے، کروڑوں کی آبادی کھائے پیے گی کیسے؟ پانی تو حیات کی علامت ہے۔

پانی کا یہ ذخیرہ دریاؤں پر ڈیم بنا کر یا پھر بیراج جو دریا کے پانی کو چینلائز کرتے ہوئے نہروں میں تقسیم کرتے ہیں، سے ہی ممکن ہے۔ قصبات میں چھوٹے چھوٹے تالاب بھی بنا لیے جاتے ہیں، مگر جب بارشوں کا موسم گزر جاتا ہے اور منہ زور دریا اتر جاتے ہیں تو اس ذخیرے کے بغیر زندگی کا پہیہ چلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اب ان حالات میں ڈیمز کی مخالفت کا ایک چلن اور بحث نکل آئی ہے۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ ڈیم دریا کے قدرتی ایکو سسٹم کو تباہ کر دیتے ہیں، دریائی مٹی جھیل میں جمع ہوجاتی ہے، آبی حیات متاثر ہوتی ہے اور ڈیمز کی تعمیر کے لیے بہت سا رقبہ زیر آب آتا ہے اور لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ جی، یہ قیمت ہے ڈیمز کی! مگر کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ:

There is no free dinner…

چلیے، ان نقصانات پر بات کرتے ہیں۔

اگر نیت نیک ہو، دل میں درد ہو، سیلاب کو ایک ”متبادل کاروبار“ نہ سمجھا جائے تو ڈیمز کے ان ”“ سائیڈ افیکٹس ”کو flushing یعنی تیز بہاؤ، بائی پاس چینلز۔ جیسا کہ غازی بروتھا میں کیا گیا۔ اور سلٹ ایجوکیٹر جیسی نئی تکنیک سے قابو کیا جاسکتا ہے جو پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتی ہے اور سلٹ کو نیچے سے بہا کر دریا کے سپرد کر دیتی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا اور اہم کام بالائی علاقوں میں جنگلات اگانا ہے۔

اب یہ ڈیم نہ صرف سوکھے دنوں میں پانی کا ذخیرہ ہیں بلکہ یہ گہری نیلی سبز جھیلیں بھی ایکو سسٹم پیدا کرتی ہیں، زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوتی ہے، سستی بجلی ملتی ہے، فصلوں کے لیے پانی دستیاب ہوتا ہے اور سیلاب کی روک تھام بھی یہ ڈیم ہی کرتے ہیں۔

اب یہ اعتراض کہ جہاں ڈیمز یا بیراج نہ بن سکیں وہاں کیا کیا جائے؟ تو حضور! دریا کو اس کی جاگیر واپس کر دیں، اس کے ساتھ نشیبی بستیوں میں صرف وہ فصلیں ہوں جو پانی مانگتی ہیں، دریاؤں کے کنارے درخت لگائیں۔ اس کے باوجود یاد رکھیے یہ صرف انسانی کاوش ہے، محض انسانی کاوش۔ جو نقصان کو کم کر سکتی ہے، بچاؤ کر سکتی ہے، مگر قدرتی آفات کے سامنے انسان بہت بے بس ہے۔

ہونے کو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے : یہ امکان کہ ڈیم ٹوٹ جائے، بیراج کے گیٹ ٹوٹ جائیں۔ یہ محض امکان ہے۔ امکان بے بسی کا دوسرا نام ہے، آپ سے کچھ کرنے کی قوت چھین لیتا ہے۔ لیکن اس بے بسی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم حادثے کی تیاری نہ کریں اور خود کو طوفان کے حوالے کر دیں۔

اس سب کے باوجود ڈیمز کی مخالفت اندھا دھند اور پوری شدت سے جاری ہے۔ لوگوں کو مزید منتشر اور کنفیوز کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت جو آگاہی اور یکجائی کا تھا، تضاد اور انتشار میں ضائع ہو رہا ہے۔

چلیے، ٹھیک ہے۔ دریا کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں، قدرتی طریقے سے بہہ کر سمندر میں گم ہونے دیتے ہیں۔ مگر بھول جاتے ہیں کہ آپ کو سیلاب سے بچنا ہے، آپ کو آبپاشی کے لیے پانی چاہیے، سستی بجلی درکار ہے جس سے ہر صنعت کا پہیہ چلتا ہے۔ یہ سب بھول کر اگر آپ کا موقف مان بھی لیا جائے کہ ماحولیات کی بقا کے لیے ڈیمز کے ارادے سے باز آ جایا جائے تو بہتر ہے کہ جناب! آپ اپنے کھیتوں میں لگے ٹیوب ویل اور زمینی پانی کھینچنے والی موٹریں بھی اتار دیں، کیونکہ اس سے زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ یا آبی تہہ (aquifer) بگڑ رہی ہے۔

پھر آپ واپس اپنے اونٹ، گھوڑے یا گدھا گاڑی پر آئیے، یہ دھواں چھوڑتی گاڑیاں ماحول برباد کر رہی ہیں۔ صنعت و حرفت کا دھواں، شور کی آلودگی، جدید جنگی ہتھیار، فضاؤں میں اڑتے طیارے۔ سب چھوڑ دیجیے اور بہت پیچھے چلے جائیے، سادہ طرزِ زندگی اپنائیے، اپنی آبادی کو آدھا کر لیجیے تاکہ قدرتی وسائل آپ کو پورے پڑ جائیں۔ فی الحال تو تیس کروڑ کے ملک کو صاف پانی، بجلی اور بنیادی ضرورتیں دینا ہی ہماری نالائق حکومتوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔

چلیے، چشمِ تصور سے فرض کر لیتے ہیں کہ ہم نے وقت کا پہیہ گھما دیا، آبادی کم کرلی، صنعت و حرفت کے سادہ روایتی طریقے اپنا لیے، گھوڑے پھر سے آ گئے۔ تو آپ کو یہ جان کر جھٹکا لگے گا کہ ڈیمز اس زمانے میں بھی موجود تھے۔

جی ہاں! کیا آپ کو پتہ ہے دنیا کا پہلا قدیم ترین ڈیم ”جاوہ ڈیم“ اردن میں تین ہزار قبل مسیح بنا تھا؟

اب دنیا کے قدیم ترین مگر فعال ڈیمز پر نظر ڈالتے ہیں : شام میں لیک ہومز ڈیم جو 1304 قبل مسیح میں بنا اور فرعون سِتی اول نے بنوایا، اب بھی فعال ہے۔ بھارت میں ”کالانی ڈیم“ 150 عیسوی میں دریائے کاویری پر بنا، اب بھی فعال ہے۔ اسپین کا ”پروسرپینا ڈیم“ پہلی دوسری صدی عیسوی میں رومیوں نے بنایا جو آج بھی Merida کو پانی مہیا کرتا ہے۔ اسپین کا ”المانڈر ڈیم“ 1578 عیسوی میں بنا اور فعال ہے۔ بھارت کا ”موتی تالاب ڈیم“ 12 ویں صدی میں کرناٹک میں بنا اور آج بھی کارآمد ہے۔ ایران کا ”صدکو بادَم ڈیم“ 10 ویں صدی میں بنا اور آج بھی کام کر رہا ہے۔ جاپان کے ”مونوی ڈیم“ ، ”سے مائی ڈیم“ ، ”کیروماٹائی ڈیم“ ساتویں صدی اور 162 عیسوی میں بنے اور تاحال فعال ہیں۔ اسپین کا ”کارنل ڈیم“ پہلی صدی عیسوی میں بنا۔

جی جناب! یہ دنیا کے عظیم ترین قدیم شاہکار ہیں، اس بات کا ثبوت کہ پانی کی ضرورت سے نمٹنے کا یہ قدیم دانشمندانہ طریقہ ہے۔ اور ان کی کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی حمام نہیں کہ بہہ جائے گا۔

اگر امکانات ہی سوچنے ہیں تو یہ کیوں نہ سوچیں کہ اگلے برس بارشیں زیادہ ہو جائیں، بادل پھٹ جانے (cloud burst) کی آفت آئے، یا پگھلتے گلیشیئرز کا سامنا ہو؟ آپ اس کی تیاری کیسے کریں گے؟

سیمیں کرن

سیمیں کرن

تعارف ۔۔اصل نام سمیرہ کرن ۔قلمی نام سیمیں کرن ،تعلیم ایم اے ایل ایل بی ۔۔چار افسانوی مجموعے شجر ممنوعہ کے تین پتے ،بات کہی نہیں گئی،مربعوں کی دائرہ کہانی ،سوئی ہوئی لڑکی ، دو ناول ۔خوشبو ہے تو بکھر جائے گی اک معدوم کہانی ۔۔تیسرا ناول زیر طبع ۔۔ کالمز کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ستر- اسی تجزیاتی مضامین ہیں