بدن کے کھو کھلے نظام نے
شبِ سیاہ کےطویل تر قیام نے
جدیدیت کے ہر امام نے
مرے شعور و آگہی کے راستے میں بے شمار اژدھے بٹھا دیے
اِسی لیے
خدائے لاشریک سے ملانے والا راستہ لہولہان ہے
ہرایک شخص دوسرے سے بدگمان ہے
وجودِ آدمی کے ارتقا کا سلسلہ بھی خیر کا نہیں رہا
کسی بھی چیز میں تمیز کرنا ممکنات میں نہیں رہا
کوئی بھی شخص اب حدودِ ذات میں رہا
سکوں کا ایک پل بھی کائنات میں نہیں رہا
کوئی اثر یہاں کسی کی بات میں نہیں رہا
تصوراتِ دیں کا مرکزی بیانیہ بھی عالمی دباؤ میں بغیر مصلحت خموش ہے
جگہ جگہ ہے روشنی مگر کہیں بھی علم و آگہی کی روشنی نہیں رہی
چلو چلیں
دیارِ بدگمان سے یقین کی طرف
مکان سے مکین کی طرف
کسی مباحثِ حسین کی طرف
چلو چلیں
سوال سے جواب کی طرف
سراب سے گلاب کی طرف
گناہ سے ثواب کی طرف
چلو چلیں
فریبِ وقت سے شعور کی طرف
چلو چلیں حضور کی طرف
چلو چلیں حضور کی طرف
سہیل احمد صمیم