چراغ کو ہوا سے واگزارتے گزر گئی

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

چراغ کو ہوا سے واگزارتے گزر گئی
یہ زندگی تو قرض ہی اُتارتے گزر گئی

وہ حبس تھا کہ سانس تک نہیں لیا گیا کہیں
ہماری ایک شخص کو پکارتے گزر گئی

بہت سے ایسے لوگ تھے کہ جن کا حوصلہ تھا میں
سو میری زخم روح پر سہارتے گزر گئی

ہمیں تو زندگی نے کُھل کے کھیلنے نہیں دیا
کبھی کہیں کبھی کہیں پہ ہارتے گزر گئی

کسی کو کچھ پسند تھا کسی کو کچھ پسند تھا
مری تو ساری عمر روپ دھارتے گزر گئی

بہت سے خواب تھے کہ جن کو غربتیں کچل گئیں
کئی ضرورتوں پہ خود کو وارتے گزر گئی

ابھی تو زندگی گزارنے کے دن ہی آئے تھے
کہ زندگی ہمیں ہی خود گزارتے گزر گئی

عجیب چادرِ طلب تھی پاؤں ڈھک نہیں سکی
کبھی سمیٹتے کبھی پسارتے گزر گئی

ہمیں عزیزِ جان و دل نے زخم اِس قدر دیئے
کہ میثمِ علی اُنہیں شمارتے گزر گئی

میثم علی آغا

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے