سلمیٰ سیّد

قلمی نام سلمیٰ سید
شاعری کا آغاز۔۔ شاعری کا آغاز تو پیدائش کے بعد ہی سے ہوگیا تھا اسوقت کے بزرگوں کی روایت کیمطابق گریہ بھی خاص لے اور ردھم میں تھا۔۔ طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ سے معذرت کے ساتھ غالب اور میر کی بڑی غزلیں برباد کرنے کے بعد تائب ہو کر خود لکھنا شروع کیا۔ناقابل اشاعت ہونے کے باعث مشق ستم آج تلک جاری ہے۔اردو مادری زبان ہے مگر بہت سلیس اردو میں لکھنے کی عادی ہوں۔ میری لکھی نظمیں بس کچھ کچے پکے سے خیال ہیں میرے جنھیں آج آپ کے ساتھ بانٹنے کا ایک قریبی دوست نے مشورہ دیا۔۔
تعلیمی قابلیت بی کام سے بڑھ نہ سکی افسوس ہے مگر خیر۔۔مشرقی گھریلو خاتون ایسی ہی ہوں تو گھر والوں کے لیے تسلی کا باعث ہوتی ہیں۔۔
پسندیدہ شعراء کی طویل فہرست ہے مگر شاعری کی ابتدا سے فرحت عباس شاہ کے متاثرین میں سے ہوں۔۔ شائد یہی وجہ ہے میری نظمیں بھی آزاد ہیں۔۔
خوبصورت شہر کراچی سے میرا تعلق اور محبت ہے۔

گزارش

ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد

6 سال پہلے

سو مت جانا

ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد

6 سال پہلے

میں عورت ذات ہوں

ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد

6 سال پہلے

عہد

ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد

6 سال پہلے

شب ہجراں 

سلمیٰ سیّد کی ایک اردو نظم

6 سال پہلے

گلابی سورج

سلمیٰ سیّد کی ایک اردو نظم

6 سال پہلے

المیہ 

ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد

6 سال پہلے