بھروسہ دوستی سب نام کے ہیں

حافظؔ زین العٰابدین کی ایک اردو غزل

بھروسہ دوستی سب نام کے ہیں
اجی یہ لفظ اب کس کام کے ہیں

سمجھنا زندگی کو کتنا مشکل
جو دن باقی بچے آرام کے ہیں

یہی تکتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے
مقدر میں سبھی غم شام کے ہیں

نہ ہوتی مہ کشی گر تُو نہ ہوتا
یہ جتنے کام ہیں اس جام کے ہیں

کچھ ایسے جرم ہم سے ہو گئے ہیں
کہ ہم زندہ تو ہیں پر نام کے ہیں

 

حافظؔ زین العٰابدین

حافظ زین العابدین

حافظؔ زین العٰابدین ۔ جائے پیدائش ۔ قصور، پنجاب نو سال کی عمر میں حفظِ قرآن کرنے کے بعد اپنی دنیاوی تعلیم کا آغاز کیا ۔ پنجاب کالج قصور سے انٹر کے بعد اب فیملی بزنس سنبھال رہا ہوں۔۔۔ شاعری کا آغاز آٹھ برس قبل کیا ۔۔۔ پہلا شعری مجموعہ اشاعت کے مراحل میں ہے