بھلے ہی رائیگاں رکھتے مگر مسکن بدل دیتے
مجھے تنہائی دے دیتے اکیلا پن بدل دیتے
تجھے معلوم ہو جاتا کہ پاکیزہ دلی کیا ہے
اگر ہم اپنے برتن سے ترا برتن بدل دیتے
ہمیں بننا تھا تم جیسا ، سو باغیچہ ہیں، ورنہ ہم
وہ جنگل تھے کہ صحرا کا بھی تن من دھن بدل دیتے
تجھے رہنے اگر دیتے ہوس کاروں کی صحبت میں
تو وہ مکڑی کے جالے سے تری چلمن بدل دیتے
ہمارے ساتھ بستر پر کتابیں جاگا کرتی تھیں
جسے پڑھنے سے نیند آتی تھی وہ دلہن بدل دیتے
یوں ہم نے روک رکھا تھا غبن تاریخ دانوں کا
وہ جب سیتا بدل دیتے تو ہم راون بدل دیتے
مسائل تو ہمارے بھی تھے اپنی اصل کے پر کیا؟
کسی اترن سے ہم پہنی ہوئی اترن بدل دیتے ؟
مرے کھلنے کے دن آتے تو آرش میرے اپنے لوگ
کسی کی خشک سالی سے مرا ساون بدل دیتے
(دلھن کا قافیہ ارادتا اس وزن پر استعمال کیا ہے)
سرفراز آرش