بے وفا روبرو تجھے دیکھوں

حسیب بشر کی ایک غزل

بے وفا روبرو تجھے دیکھوں
ہے مری آرزو تجھے دیکھوں

عشق کی آنکھ میں لئے آنسو
درد زیرِ نمو تجھے دیکھوں

اے مرے زخم تو محبت ہے
کیوں بھلا میں رفو تجھے دیکھوں

ہے عبادت مری محبت میں
ہو کے میں با وضو تجھے دیکھوں

کتنا دلکش ملا مجھے دھوکہ
میں کہ بے آبرو تجھے دیکھوں

آسماں آئنہ بنا کے حسیب
خوش ہوں اب چار سو تجھے دیکھوں

حسیب بشر

حسیب بشر

حسیب بشر کا تعلق پنجاب کے شہر وزیرآباد سے ہے۔ آپ لاہور کی مختلف سماجی اور غیر سماجی تنظیموں کے اہم رکن ہیں۔ آپ نے اپنا تخلیقی سفر2011 میں شروع کیا اور 2016 میں منظر عام پر آئے۔