دیہی پاکستان کی گلیوں میں آج بھی ایک خاموش کہانی جنم لیتی ہے—ایک ایسی کہانی جس میں ایک بیٹی کے خواب اور معاشرتی رکاوٹیں آمنے سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ کہانی کسی ایک گاؤں کی نہیں بلکہ ان لاکھوں گھروں کی عکاسی کرتی ہے جہاں تعلیم ابھی تک ترجیح نہیں بن سکی، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے۔
ہم اکثر ترقی کی بات کرتے ہیں، شرحِ خواندگی بڑھانے کے دعوے کرتے ہیں، مگر جب حقیقت کا سامنا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیہات میں بیٹی کی تعلیم اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ وہاں تعلیم کو حق سے زیادہ سہولت سمجھا جاتا ہے، اور سہولت بھی ایسی جو صرف بیٹوں کے لیے مخصوص ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ سوچ کا زاویہ بھی ہے۔ کئی والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں، مگر معاشرتی دباؤ، لوگوں کی باتیں اور روایتی تصورات انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یوں ایک فرد کی رائے پورے ماحول پر حاوی ہو جاتی ہے اور بیٹی کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔
اگر ہم آبادی کے تناظر میں اس مسئلے کو دیکھیں تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ ایک بڑی آبادی ایسی ہو جو تعلیم سے محروم ہو، تو وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتی ہے بلکہ قومی ترقی کی رفتار کو بھی سست کر دیتی ہے۔ ایک ناخواندہ عورت صرف اپنی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی ترقی کو بھی محدود کر دیتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک سماجی بحث کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قومی ترجیح بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ دیہی علاقوں میں باقاعدہ سطح پر تربیتی اور آگاہی پروگرامز کا آغاز کرے، جہاں والدین کو یہ سمجھایا جائے کہ بیٹی کی تعلیم کسی بوجھ کا نہیں بلکہ مستقبل کی سرمایہ کاری کا نام ہے۔
اس کے ساتھ ایک واضح اور مؤثر قانون سازی بھی ضروری ہے۔ ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت کوئی بھی شخص یا گروہ بیٹیوں کو تعلیم سے روکنے یا اس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی جرات نہ کرے۔ اگر کوئی اس حق میں رکاوٹ بنے تو اس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ معاشرے میں ایک مضبوط پیغام جائے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔
تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ سوچ کو بدلنے کا نام ہے۔ جب دیہی علاقوں کی بیٹیاں تعلیم حاصل کریں گی تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدلیں گی بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی مثبت سمت دیں گی۔
یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو روایتوں کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھنا چاہتے ہیں یا انہیں علم کی طاقت دے کر ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک بیٹی پڑھتی ہے تو درحقیقت ایک پورا معاشرہ سیکھتا ہے۔
نعمان علی بھٹی