بر سرِدار مَیں اکیلا ہوں

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

بر سرِ دار مَیں اکیلا ہوں
آخرِ کار مَیں اکیلا ہوں

سب نے چکّھا تھا پھل تمنا کا
اب گنہگار مَیں اکیلا ہوں

ہیں مِرے دوست سب، کنارے پر
بِیچ منجدھار، مَیں اکیلا ہوں

دیکھتا کیا ہے دائیں بائیں مِرے
کھینچ تلوار، مَیں اکیلا ہوں

ہاں یہی سچ ہے، اب یہی سچ ہے
مرحلہ وَار مَیں اکیلا ہوں

یعنی ہر بار سب تمہارے ہیں
یعنی ہر بار مَیں اکیلا ہوں

منزلوں سے مِری نہیں بنتی
میری رفتار، مَیں اکیلا ہوں

عمران ہاشمی

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ