بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ

آج پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ایک دن میں اتنی بڑی رقم بڑھا دی گئی کہ عام آدمی حیران رہ گیا۔ پچپن روپے فی لیٹر تک اضافہ نے ہر خاندان کی سوچ میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ حکومت نے اس اضافے کی ایک وجہ یہ بتائی ہے کہ عالمی حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں موجود کشیدگی اور تنازعات کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مگر کیا واقعی یہی وجہ ہے یا عوام کو ایک اور معاشی دھکے کی تیاری کی جا رہی ہے؟

جب ہم باہر دنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی مشرق وسطیٰ میں کئی ممالک کے درمیان تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ جنگیں، سیاسی مسائل، اور غیر یقینی صورتحال نے عالمی منڈی پر اثر کیا ہے اور تیل جیسی اشیاء کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی وجہ ہے تو کیوں پاکستان میں ایندھن کی قیمت ایسی سطح تک پہنچ گئی ہے اور دوسرے ممالک میں اس قدر شدید اضافہ نہیں دیکھا گیا؟

پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ایندھن کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو حقیقت سامنے آتی ہے۔ بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کئی ماہ سے ایک حد پر برقرار ہیں۔ دہلی، ممبئی اور دیگر بڑے شہروں

میں پیٹرول کی قیمت پاکستان سے کم ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی عوام کو پٹرول اور ڈیزل پر اتنے بڑے اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سری لنکا اور نیپال جیسے ممالک میں بھی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں بہت کم یا مستحکم ہیں۔

یہ موازنہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اتنی بڑی چھلانگ صرف عالمی حالات کے رد عمل میں نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہیں۔ مقامی پالیسیاں، ٹیکس سسٹم، روپے کی قدر، درآمدات کی لاگت اور حکومت کی ترجیحات سب مل کر اس صورتحال کو جنم دیتے ہیں۔ اگر عالمی حالات کو ہی سب کچھ سمجھا جائے تو پھر دیگر ممالک میں اتنے بڑے اضافے کا سوال کیوں پیدا نہیں ہوتا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیاں چلانے کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ یہ ہر شعبہ زندگی میں موجود ہیں۔ ٹرانسپورٹ، مارکیٹ، خوراک، خدمات اور روز مرہ کے سامان کی قیمتوں میں اس کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔ جب ان کی قیمت بڑھتی ہے تو ہر چیز کی قیمت بڑھتی ہے۔ نا صرف وہ لوگ جن کے پاس گاڑیاں ہیں متاثر ہوں گے بلکہ ہر وہ نوجوان اور ہر وہ شخص جس کی روزمرہ کی زندگی کسی نہ کسی شکل میں ایندھن پر منحصر ہے، پریشان ہوگا۔

یہ اضافہ صرف پیٹرول یا ڈیزل کی قیمت کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ عوام کے روزمرہ زندگی میں دخل دینے والا ایک بڑا قدم بن گیا ہے۔ جس شخص کی تنخواہ کم ہے، وہ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ برداشت کر رہا ہے۔ ایسے میں ایک دن میں اتنی زیادہ اضافی مقدار دیکھ کر ہر خاندان کا بجٹ متاثر ہو جاتا ہے۔

یہ اضافہ ایک طرح کا معاشی حملہ ہے جس نے عام لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ لوگ اب بس سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ان کی اجرت کہاں تک ان قیمتوں کا مقابلہ کر پائے گی۔ اکثر گھروں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ آج کے حالات میں کبھی بھی ضروری اشیاء کی قیمتیں ہاتھ سے نکلتی ہوئی لگتی ہیں۔

جب ہم قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں صرف عالمی حالات کو دلیل کے طور پر سامنے لانا کافی نہیں لگتا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کو واضح طور پر بتائے کہ مقامی معاشی پالیسیوں نے اس صورت حال کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ ٹیکس نظام، درآمدی لاگت، روپے کی قدر میں کمی اور دیگر عوامل کا عوام کی روز مرہ زندگی پر کیا اثر ہوا ہے، یہ سب عوام کے سامنے صاف طور پر رکھنا چاہئے۔

یہ اضافہ صرف ایک اقتصادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ جب عوام کو روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہو جائے تو اس کا اثر ان کے ذہنی سکون، خاندانی زندگی اور معاشرتی فضا پر بھی پڑتا ہے۔ لوگ اجرت اور روزگار کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، مگر ایسے وقت میں جب ایندھن کی قیمتیں بڑھ جائیں تو وہ بوجھ اور بڑھ جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ جب عالمی حالات مصروف ہیں تو دوسرے ممالک نے اپنے عوام کو اس بوجھ سے کیسے محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی پالیسیاں عوام دوست بنائیں، ٹیکسوں میں تبدیلی کی، یا قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا؟ عوام کا سوال یہی ہے کہ ان کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت ان کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟

یہ اضافہ عوام کے بنیادی حقوق پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک شہری کے طور پر ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی پالیسیاں سمجھے اور ان کے بارے میں سوال اٹھائے۔ یہ قیمتیں عوام کے لیے مشکلات لائیں گی، ان کے روزگار کو متاثر کریں گی، اور ان کی روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنائیں گی۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اس نظام کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں جس نے انہیں اس قیمت تک پہنچایا ہے۔ ان کے ہاتھ میں جو کچھ بھی ہے وہ اسے اس بوجھ کے ساتھ کیسے سنبھالیں گے، یہ سوچ ان کے ذہنوں میں گھوم رہی ہے۔

یہ اضافہ ایک بڑی مالی ذمہ داری ہے جس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے منظم اور شفاف اقدامات کرے، تاکہ عوام اپنی زندگی کو آسانی کے ساتھ گزار سکیں۔

یہ کالم اسی سوال کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ ہماری معاشی پالیسیاں عوام کے فائدے میں ہیں یا عوام کے خلاف؟ قیمتوں کا اضافی بوجھ عوام پر ڈال کر کیا کسی مقصد کو پورا کیا جا رہا ہے؟ عوام کے لیے یہی ضروری ہے کہ وہ اپنے مفادات، اپنی زندگی اور اپنی معیشت کے بارے میں سوال اٹھائے اور ایسے فیصلوں کا جواب طلب کرے جو ان کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔