بدن کی آگ کے دریا کو پار کرتے ہوئے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

بدن کی آگ کے دریا کو پار کرتے ہوئے
میں جی اٹھا ہوں ترا انتظار کرتے ہوئے

سرِ نگاہ سرکتا ہے آئنوں کا ہجوم
پسِ چراغ حقیقت شکار کرتے ہوئے

اک اشتعال میں شب کی جنی ہوئی وحشت
سمٹ چکی ہے مجھے بیقرار کرتے ہوئے

وگرنہ عیب نہیں میری پختگی میں کوئی
میں ٹوٹتا ہوں ترا اعتبار کرتے ہوئے

مرا گھماؤ مری خامشی پہ حاوی ہے
میں گرد باد ہوا ہوں پکار کرتے ہوئے

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔