کاش دکاندار نسیم صادق کی بات مان لیتے…!
فیصل آباد سرکلر روڈ اورریلوے روڈ کا 12 سالہ تنازع — ایک حقیقت پسندانہ جائزہ
فیصل آباد میں ریلوے روڈ، چارٹر بینک چرچ سے لے کر سرکلر روڈ اور چنیوٹ بازار کے کونے تک پھیلا ہوا وہ علاقہ ہے جہاں برسوں سے سرکاری نالے کی زمین پر تعمیر شدہ دکانیں، شاپس اور کثیر منزلہ پلازے کھڑے ہیں۔ یہ مسئلہ نیا نہیں؛ بلکہ اس کی جڑیں 2012 تک جاتی ہیں، جب ایک سرگرم، جرات مند اور اصلاحاتی ذہن رکھنے والے ڈپٹی کمشنر نسیم صادق نے پہلی بار اس بڑے قبضہ مافیا کے خلاف عملی قدم اٹھایا۔ وقت کی طاقتوں، سیاسی دباؤ اور دکانداروں کی مزاحمت نے اُس اقدام کو روک تو دیا، لیکن آج حالات نے ثابت کردیا کہ ریاستی ادارے جب کسی معاملے کو اصل روح میں لیں، تو تاخیر ضرور ہوتی ہے، مگر عمل درآمد رکتا نہیں۔ آج جب فیصل آباد کی انتظامیہ
یہی وہ لمحات تھے جن میں شہر کے اجتماعی مفاد پر انفرادی مفاد کو ترجیح دی گئی، اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج دوبارہ وہی مسئلہ کئی گنا بڑھ کر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز — بلا خوف، بلا تفریق آپریشن کر رہی ہیں۔ آج پنجاب میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بغیر کسی سیاسی مصلحت، سفارش یا دباؤ کے پورے صوبے میں صفائی ستھرائی، انکروچمنٹ کے خاتمے اور شہری نظم و ضبط کی بحالی کو اپنی پہلی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ ان کا پیغام صاف ہے: “قانون سب کے لیے برابر ہے۔ قبضہ مافیا، ناجائز تعمیرات، یا سیاسی سفارش — کسی چیز میں اب برداشت نہیں۔” یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد میں بارہ سال سے رکے ہوئے اس بڑے مسئلے کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ: کارروائی منظم ہے ریکارڈ مکمل طور پر اپڈیٹ کیا جاچکا ہے رجسٹری کے بغیر تعمیرات کی نئی فہرست تیار ہے، جس کے تحت وہ دوکانیں گرائی جا رہی ہیں۔ کسی بھی سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جارہا یہ ایک نئی سوچ اور نئی طرز حکمرانی کی دلیل ہے۔ نالہ عوامی ملکیت ہے — اور عوامی ملکیت پر سمجھوتہ نہیں ہوتا دنیا کا کوئی بھی ترقی یافتہ ملک بنیادی ڈھانچے پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ نالے، سڑکیں، پارکس، پل، اور سیوریج سسٹم شہر کا دل ہوتے ہیں۔ ان پر تجاوزات دراصل شہر کے مستقبل پر تجاوزات ہوتی ہیں۔ ریلوے روڈ کے اس نالے پر دکانوں کی تعمیر نے: گٹروں اور نکاسی آب کو بند کیا بارشوں میں شہر کو ڈبو دیا بدبو اور گندگی کا مرکزی راستہ بنادیا پیدل چلنے والوں کی سہولت ختم کردی ٹریفک کے اژدہام کو بڑھایا یہ سب اس لیے ہوا کہ ایک وقت میں چند لوگوں کے مفاد کو پورے شہر کے مفاد پر ترجیح دی گئی۔ آج کا حقیقت پسندانہ سوال — اگر دکاندار نسیم صادق کی بات مان لیتے؟ یہ سوال آج پورے فیصل آباد میں گردش کر رہا ہے۔ کاش وہ نوٹسز سنجیدگی سے لے لیے جاتے… کاش وہ متبادل جگہ قبول کرلی جاتی… کاش سیاسی مداخلت کو ہیرو نہ سمجھا جاتا… اگر اس وقت قانونی راستہ اختیار کرلیا جاتا تو: آج دکاندار اپنی قانونی دکانوں کے مالک ہوتے اتنی بڑی سرمایہ کاری خطرے میں نہ پڑتی عدالتی کیسز اور چپقلشیں نہ ہوتیں نالہ برسوں پہلے بحال ہوجاتا پورا شہر سیوریج کے عذاب سے محفوظ رہتا لیکن افسوس کہ بہت سے فیصلے جذبات سے ہوتے ہیں، عقل سے نہیں۔وقت ہمیشہ سبق دیتا ہے، اور آج ایک بار پھر وقت نے ثابت کیا کہ قانون کو روکنا وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر مستقل نقصان ضرور دیتا ہے۔
متاثرہ افراد کی ذمہ داری — صرف حکومت نہیں، شراکت داری ضروری تھی یہ درست ہے کہ کاروبار کسی کی زندگی کا سہارا ہوتا ہے۔ متاثرہ دکانداروں کی پریشانی حقیقی ہے۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ: انہوں نے غیرقانونی تعمیرات میں سرمایہ لگایا رجسٹری یا اصل مالکانہ حقوق کے بغیر کاروبار بڑھایا اصل مالک یعنی حکومت کے نوٹسز کو نظر انداز کیا سیاسی پناہ کو قانونی دستاویز سمجھ لیا وقت پر اپنا معاملہ حل نہیں کیا یہی غلطیاں آج ان کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت میں واپس کھڑی ہوچکی ہیں۔ اگر وہ وقت پر نسیم صادق کے ساتھ بیٹھ کر قانونی متبادل جگہ قبول کرلیتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ یہ آج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ یہ کارروائی محض عمارتیں گرانے کا نام نہیں — یہ مستقبل درست کرنے کا عمل ہے حکومت کی حالیہ سرگرمیاں محض تجاوزات کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں۔ یہ ایک بڑے شہری منصوبے کا حصہ ہے: سیوریج کے نظام کی بہتری بارشوں کے پانی کی نکاسی ٹریفک فلو کی بحالی شہری ماحول کی بہتری تجاوزات سے پاک نظام کی بنیاد یہ فیصل آباد ہی نہیں، پورے پنجاب کی ترقی کے لیے ایک بنیادی قدم ہے۔ پنجاب بدل رہا ہے — اور بدلتے پنجاب میں قانون سب کے لیے یکساں ہونا ہوگا پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ: سفارش ختم دوغلا نظام ختم ،قبضہ مافیا کی سرپرستی ختم بلا تفریق کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ایسے ماحول میں فیصل آباد ریلوے روڈ کا آپریشن محض ایک علاقائی کارروائی نہیں بلکہ پورے صوبے میں شفافیت اور قانون کی بالادستی کی علامت ہے۔وقت نے ثابت کردیا کہ قانون سب سے بڑا ہوتا ہے وہ دکاندار جو نسیم صادق کے وقت میں طاقتور سیاسی ہاتھوں پر اعتماد کرتے تھے، آج گھبراہٹ میں ہیں۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ حکومت کبھی ہاتھ نہیں ڈالے گی، آج پریشان ہیں۔ لیکن قانون نے اپنا راستہ بنالیا۔ آج اگر کوئی سب سے مضبوط موقف رکھتا ہے تو وہ حکومت ہی ہے، کیونکہ: نالہ عوامی ملکیت ہے،تجاوزات غیرقانونی ہیں شہری مفاد سب سے مقدم ہے مریم نواز کی حکومت بلا تفریق کارروائی پر قائم ہے نسیم صادق نے جو بات بارہ سال پہلے کہی تھی، آج وہ صرف سچ ہی نہیں بلکہ حقیقت کا قانون بن چکی ہے۔آخری بات یہ ہے کہ وقت بدل رہا ہے۔پنجاب بدل رہا ہے۔اور فیصل آباد کا وہ نالہ جو برسوں ملبے کے نیچے دب گیا تھا،اب نئی زندگی پانے والا ہے۔ یہ کالم سچائی کے تناظر میں اسی حقیقت کا عکاس ہے کہ:اجتماعی مفاد پر قانونی عملدرآمد رکوا کر اپنی جیت سمجھنے والے لوگ کبھی جیت نہیں پاتے۔
شاہد نسیم چوہدری