بعد از خدا کی ذات کے برتر نبی کی ذات
ہے دین و دنیا کے لیے رہبر نبی کی ذات
حق کا رخِ منور و اطہر نبی کی ذات
حُسنِ ازل کا روشن و اظہر نبی کی ذات
والشمس جس کے چہرہِ زیبا کا ایک عکس
واللیل زلفِ مشک کا دفتر نبی کی ذات
لب ہائے لعل، وحیِ الٰہی کے ترجماں
شہد و شکر کا ایک سمندر نبی کی ذات
دندانِ در فِشاں کہ ستاروں کی کہکشاں
گوہر فِشاں، دہانِ معطر نبی کی ذات
رخسارِ تابناک ہیں نُورِ علیٰ علیٰ
خورشیدِ صبحِ حشر کا منظر نبی کی ذات
شانوں پہ نُورِ ختمِ نبوت کی مہر ہے
اقلیمِ انبیا کا سکندر نبی کی ذات
سینہ وہ علم و نُور کا گنجینہِ عظیم
قرآں کی وسعتوں کا مقدر نبی کی ذات
قامت وہ سروِ ناز کہ طوبٰی بھی ہو نثار
سائے سے ماورا، مہِ انور نبی کی ذات
رفتار میں وہ دبدبہ، وہ تمکنت وقار
خاکِ قدم کو کرتی ہے گوہر نبی کی ذات
خوشبوئے جسمِ پاک سے مہکا ہے دو جہاں
عنبر فِشاں، شمیمِ معطر نبی کی ذات
پہنچی جہاں نہ عقل، وہ معراجِ حُسن ہے
انساں کا اوج، عظمتِ برتر نبی کی ذات
جس کے پسینے سے ملی نکہت گلاب کو
باغِ ارم کا نکہت و زیور نبی کی ذات
عاجزؔ کے دیدہ و دل و جاں کیوں نہ ہوں فدا
مقصودِ کُن، حبیبِ پیمبر نبی کی ذات
ڈاکٹر الیاس عاجزؔ