ازل سے راہِ فنا اختیار کرتے ہوئے
بشر ہے محوِ سفر انتظار کرتے ہوئے
مفر نہیں ہے محبت کو وحشتِ غم سے
وہ مطمئن تھا،مجھے بے قرار کرتے ہوئے
مرے لبوں پہ تھی رقصاں دعائے ردٌِبلا
تمہاری ذات پہ اپنا حصار کرتے ہوئے
نہیں ہیں کشتی ء دوراں میں سب مسافر ایک
صدا سنی تھی سمندر کو پار کرتے ہوئے
مری وفاؤں کا بھی کچھ خیال کرلینا
مری خطاؤں کا دل میں شمار کرتے ہوئے
اے چارہ گر یہ بتا زخم دیکھ کر میرا
وہ ہچکچایا تو ہوگا یہ وار کرتے ہوئے
تمہاری بات الگ ،پھر بھی دل دھڑکتا ہے
جہاں پہ جانِ جہاں اعتبار کرتے ہوئے
تمہارے بس میں کہاں ہے قیاس بھی اس کا
جو ہم پہ گزری خزاں کو بہار کرتے ہوئے
خلش تو ہوگی اسے صائمہ کہیں نہ کہیں
مرے وجود کو مشتِ غبار کرتے ہوئے
سیدہ صائمہ کامران