اپنی ذات کے ویران راستے

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

ہم ایک عجیب معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان سب کچھ کرتا ہے مگر اپنے لیے نہیں۔ کوئی خاندان کے دباؤ میں جیتا ہے، کوئی رسموں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، کوئی لوگوں کی توقعات پوری کرتے کرتے تھک جاتا ہے۔ عمر گزرتی رہتی ہے مگر شخصیت وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے کہ آخر زندگی میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کون سی ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ پیسہ، کاروبار، جائیداد یا تعلقات اصل سرمایہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب چیزیں ثانوی ہیں۔ اصل سرمایہ وہ صلاحیت، سوچ اور کردار ہے جو انسان اپنی ذات میں پروان چڑھاتا ہے۔ اگر انسان اندر سے مضبوط نہ ہو تو باہر کی کامیابیاں محض شور بن کر رہ جاتی ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے لیے جینے کو قربانی سمجھتے ہیں اور اپنی اصلاح کو خود غرضی کا نام دے دیتے ہیں۔ بچپن سے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ پہلے والدین، پھر خاندان، پھر معاشرہ، اور آخر میں کہیں جا کر انسان خود آتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیشتر لوگ اپنی خواہشات، صلاحیتوں اور خوابوں کو دفن کر کے زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں مگر اندر سے خالی ہوتے ہیں۔

زندگی کی اصل تبدیلی اس لمحے شروع ہوتی ہے جب انسان پہلی بار اپنے اندر جھانکنے کی ہمت کرتا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ اعتراف کہ ہم ہر بات میں درست نہیں، ہر فیصلے میں عقل مند نہیں اور ہر رویے میں مثالی نہیں، انسان کو توڑ دیتا ہے۔ مگر یہی ٹوٹ پھوٹ آگے چل کر تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ حضرت علیؓ کا یہ قول کہ اپنے نفس پر قابو پانا سب سے بڑی جیت ہے، دراصل اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اصل معرکہ میدانوں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر برپا ہوتا ہے۔

تعلیم گاہوں میں اکثر ایسے طلبہ ملتے ہیں جو اپنی ناکامیوں کا الزام اساتذہ، نصاب یا حالات پر ڈال دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو طالب علم اپنی کوتاہی کو پہچان لیتا ہے، وہی آگے بڑھتا ہے۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے میں لاگو ہوتا ہے۔ جو فرد اپنی غلطیوں کا سامنا نہیں کرتا، وہ ساری عمر دوسروں کی کامیابیوں سے جلتا رہتا ہے اور اندر ہی اندر شکست کھاتا رہتا ہے۔

اندرونی اصلاح کا دوسرا مرحلہ عادات کی تشکیل ہے۔ انسان کی زندگی بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات سے بنتی ہے۔ وقت کی پابندی، مطالعہ، جسمانی صحت کا خیال اور نظم و ضبط وہ عناصر ہیں جو خاموشی سے انسان کو بدل دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم فوری نتائج کے اسیر ہیں۔ ہمیں ایک ہفتے میں تبدیلی چاہیے، ایک مہینے میں کامیابی اور ایک سال میں کمال۔ حالانکہ فطرت آہستہ مگر مستقل چلنے والوں کو نوازتی ہے۔

روزانہ معمولی بہتری کا تصور بظاہر غیر متاثر کن لگتا ہے، مگر یہی مسلسل پیش رفت وقت کے ساتھ انسان کو وہاں پہنچا دیتی ہے جہاں اکثریت صرف خواب دیکھتی ہے۔ کامیاب افراد کسی خاص دن پیدا نہیں ہوتے بلکہ وہ ہر دن خود کو بہتر بنانے کی خاموش کوشش کرتے ہیں۔

علم کا معاملہ بھی اسی فہم کا متقاضی ہے۔ آج کے دور میں معلومات کی کمی نہیں بلکہ سمت کی کمی ہے۔ ہر چیز موبائل کی اسکرین پر موجود ہے مگر سیکھنے کا شوق ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان گھنٹوں اسکرولنگ میں گزار دیتے ہیں مگر اپنی مہارت بڑھانے کے لیے چند منٹ نکالنا دشوار سمجھتے ہیں۔ جو نسل ہنر، زبان اور عملی تجربے سے خود کو آراستہ کر لیتی ہے، وہی وقت کی دوڑ میں آگے نکلتی ہے۔

ناکامی کا خوف بھی انسان کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ ہم اس معاشرے میں پلتے ہیں جہاں گرنے والے پر ہاتھ رکھنے کے بجائے انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ کوشش سے گھبراتے ہیں۔ حالانکہ ناکامی انسان کو ختم نہیں کرتی بلکہ نکھارتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ تعلیم کہ مصیبت میں صبر ایمان کا حصہ ہے، ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات ایمان اور کردار کی جانچ ہوتی ہیں۔ جو شخص صبر کے ساتھ حالات کا سامنا کرتا ہے، وہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔

دنیاوی کامیابی اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ کھوکھلی ہوتی ہے۔ کردار کے بغیر حاصل ہونے والی ترقی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر دل کا سکون نہیں دے سکتی۔ عبادات، شکرگزاری، دیانت اور عدل انسان کی شخصیت کو وزن دیتے ہیں۔ ایک تاجر اگر ایمانداری اختیار کرے تو شاید فوری منافع کم ہو، مگر طویل مدت میں اعتماد، عزت اور سکون اس کا مقدر بنتے ہیں۔

زندگی میں سب سے مؤثر عمل احتساب ہے۔ دن کے اختتام پر چند لمحے نکال کر اپنے اعمال پر غور کرنا انسان کو آئینہ دکھاتا ہے۔ کہاں جذبات غالب آ گئے، کہاں فیصلے کمزور رہے اور کہاں بہتری کی گنجائش ہے۔ جو شخص یہ عادت اپنا لیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ سنورنے لگتا ہے۔

حرف آخر
شخصیت کی تعمیر کوئی مختصر منصوبہ نہیں بلکہ عمر بھر کا سفر ہے۔ اس سفر میں تھکن بھی ہے، تنہائی بھی اور آزمائش بھی۔ مگر جو شخص اس راستے پر ثابت قدم رہتا ہے، وہ صرف کامیاب نہیں بلکہ مطمئن بھی ہوتا ہے۔ اور اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان شام کو سر رکھے تو دل مطمئن ہو کہ اس نے زندگی صرف گزاری نہیں بلکہ سمجھی بھی ہے۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔