آنکھ میں نمی کیوں ہے اتنی بے کلی کیوں ہے چاہتوں کی ہر گاگر درد سے بھری کیوں ہے تیری سوچ پر ناہید گرد سی جمی کیوں ہے تیرے وصل کی ہر چھاؤں ہجر سے سجی کیوں ہے بے کلی جو دیتی ہے ایسی آگہی کیوں ہے نبض وقت کی ناہید آج یوں تھمی کیوں ہے
ناہید ورک
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
اردو غزل از بشیر بدر
محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از ایم اے دوشی
میثم علی آغا کی ایک اردو غزل