آنکھ میں نمی کیوں ہے اتنی بے کلی کیوں ہے چاہتوں کی ہر گاگر درد سے بھری کیوں ہے تیری سوچ پر ناہید گرد سی جمی کیوں ہے تیرے وصل کی ہر چھاؤں ہجر سے سجی کیوں ہے بے کلی جو دیتی ہے ایسی آگہی کیوں ہے نبض وقت کی ناہید آج یوں تھمی کیوں ہے
ناہید ورک
وصال عباسی کی ایک اردو غزل
پیر انتظار حسین کی ایک اردو غزل
شاعر : سہیل احمد صمیم
ایک اردو غزل از رشید حسرت
رشید حسرت کی ایک اردو نظم