آنکھ میں نمی کیوں ہے اتنی بے کلی کیوں ہے چاہتوں کی ہر گاگر درد سے بھری کیوں ہے تیری سوچ پر ناہید گرد سی جمی کیوں ہے تیرے وصل کی ہر چھاؤں ہجر سے سجی کیوں ہے بے کلی جو دیتی ہے ایسی آگہی کیوں ہے نبض وقت کی ناہید آج یوں تھمی کیوں ہے
ناہید ورک
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل