انڈا، سیاہی اور جوتا

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

انڈا، سیاہی اور جوتا: سیاست کا زوال پذیر کلچر

پاکستان کی سیاست میں اختلافِ رائے کوئی نئی بات نہیں۔ جمہوری معاشروں میں مختلف آراء اور نقطہ نظر ہی سیاسی عمل کو زندہ رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اختلاف کی روایت آہستہ آہستہ برداشت کی سرحدوں کو پار کر کے عدم برداشت اور تشدد میں ڈھلتی جا رہی ہے۔

گزشتہ برسوں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جنہوں نے ہماری سیاسی فضا کو مکدر کر دیا۔ نواز شریف جیسے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے رہنما پر جوتا پھینک دیا گیا۔ خواجہ آصف، جو ملک کے وزیر دفاع رہ چکے ہیں، ان پر سیاہی پھینکی گئی۔ اور اب حالیہ دنوں میں علیمہ خان کو میڈیا سے گفتگو کے دوران انڈے کا نشانہ بنایا گیا۔ تینوں شخصیات مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتی ہیں، مگر ان سب کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ایک ہی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے: سیاسی عدم برداشت ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں جڑیں پکڑ رہی ہے۔

یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ اختلاف کا اظہار آخر اس انداز میں کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا ہم نے یہ بھلا دیا ہے کہ دلیل، مکالمہ اور صحت مند تنقید ہی جمہوریت کی اصل روح ہیں؟ انڈے، سیاہی یا جوتے پھینکنے سے نہ تو سیاستدانوں کی عزت گھٹتی ہے اور نہ ہی کوئی حقیقی سیاسی مقصد حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے صرف معاشرے میں نفرت، تلخی اور تقسیم بڑھتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بدقسمتی سے ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس کی بھرپور تشہیر کرتے ہیں۔ ان مناظر کو بار بار دکھایا جاتا ہے، گویا یہ کوئی سنسنی خیز تماشا ہو۔ نتیجتاً یہ عمل مزید لوگوں کو ایسے اقدامات پر اکساتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس طرح کے واقعات کو فروغ دینے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرے۔

سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی اپنے کردار پر غور کرنا ہوگا۔ اگر قیادت اپنی تقریروں میں مخالفین کو تضحیک اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنائے گی تو کارکنان اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر عملی حملوں کی طرف مائل ہوں گے۔ لیڈران کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو برداشت، دلیل اور مثبت سیاسی رویوں کی تعلیم دیں۔

آج ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ سیاست کو مکالمے کے میدان میں رکھنا ہے یا تضحیک اور تشدد کے کھیل کا حصہ بنانا ہے۔ اگر ہم نے وقت پر رخ نہ بدلا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے سیاسی کلچر کی وارث ہوں گی جہاں اختلاف دلیل سے نہیں بلکہ توہین اور حملوں سے کیا جائے گا۔ اور یہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے سب سے بڑا نقصان ہوگا۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔