اے پسندیدہ شخص

میر حسن کی ایک اردو نظم

کسی اور کو نہیں، میں نے
بس ایک ہی شخص کو دیکھنا ہے۔
جب زمانہ اپنے رنگ بدلے گا،
مجھے اُس کی آنکھوں میں دیکھنا ہے۔

مدت سے کھڑا ہوں انتظار میں،
بس اُس کی ایک نظر کی خاطر۔
مجھے اُس شخص کو پلٹ کر
مجھے دیکھتے ہوئے دیکھنا ہے۔

جس کی راہ تکتے تکتے
کتنی شامیں گزار دیں میں نے،
مجھے کبھی اُس شخص کو
میری بھی راہ تکتے دیکھنا ہے۔

کبھی میرا نام سن کر
اُس کے لبوں پر مسکراہٹ اُتر آئے،
مجھے اُس شخص کی آنکھوں میں
اپنے ذکر کی چمک دیکھنا ہے۔

سنو! میں جانتا ہوں
کہ بڑی بات کر رہا ہوں،
مگر مجھے اُس شخص کو
میرا ہاتھ تھامتے دیکھنا ہے۔

کبھی میری خاموشی بھی
اُس کے دل تک جا پہنچے،
مجھے اُس شخص کو میرے
اَن کہے لفظ سمجھتے دیکھنا ہے۔

جب بدل جائیں گے
مزاج سبھی لوگوں کے،
تب مجھے اُس شخص کو
اپنے ساتھ کھڑے دیکھنا ہے۔

اور اے پسندیدہ شخص!
اب تو میرے حصے میں آ،
مجھے یہ دوسرا عشق
اب مکمل ہوتے دیکھنا ہے۔

حسنؔ، جسے ہر دعا میں
اپنے لیے ہی مانگا ہے،
اب اُسے بھی کسی دعا میں
مجھے مانگتے دیکھنا ہے۔

میر حسنؔ

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔