ادھورے پن کی رفتہ رفتہ یہ تکمیل کرتی ہے
محبت زندگی کو حسن میں تبدیل کرتی ہے
کبھی سوچا بھی ہے تُو نے کہ وہ مغرور سی لڑکی
نجانے کیوں ترے ہر حکم کی تعمیل کرتی ہے
نہیں روتی ہے اب وہ بند کمرے میں کہیں گُھٹ کر
وہ اپنے آنسوؤں کو شعر میں تمثیل کرتی ہے
سمندر ڈوب جاتے ہیں بنا سوچے،بنا سمجھے
وہ اپنی آنکھ کو جب خامشی کی جِھیل کرتی ہے
طنابیں وقت کی کھینچے زمانہ سنتا رہتا ہے
وہ اس انداز سے رودادِ دل تفصیل کرتی ہے
منور ہوتا جاتا ہے سماں،جب رات ڈھلتی ہے
تری چاہت مرے احساس کو قندیل کرتی ہے
یہ دنیا صائمہ ہے چند کرداروں کا افسانہ
کبھی ہابیل کرتی ہے،کبھی قابیل کرتی ہے
سیدہ صائمہ کامران