آنسو ہیں اور دیدہ خونبار دوستو

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل

آنسو ہیں اور دیدہ خونبار دوستو
دامن ہے اور اشک گہر بار دوستو

آنکھوں میں چبھ رہی ہے غم زندگی کی دھوپ
بیٹھے ہیں زیر سایہ ء دیوار دوستو

بکھری ہوئی ہیں دامن یوسف کی دھجیاں
اُجڑا ہوا ہے مصر کا بازار دوستو

اک دل ہے اور ماتم صد شہر آرزو
اک سر ہے اور لاکھ خریدار دوستو

بے نور ہو چکا ہے چراغ حریم ناز
ویراں ہے طاق ابروئے خم دار دوستو

دھندلا گئی ہے مشعل عرفان و آگہی
کجلا گیا ہے شعلہ افکار دوستو

شاید کہ زندگی کا سفر ختم ھو گیا
رکنے لگی ہے سانس کی تلوار دوستو

اب رائگاں ہے غمزہ ء محبوبہ بہار
اب ہم ہیں اور نرگس بیمار دوستو

منزہ انور گوئیُندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا