آنکھوں کو شبِ نور میں تنویم تو ہو نا
کچھ ثروتِ رویا مجھے تقسیم تو ہو نا
ہر شخص کی آنکھوں میں یہی نوحہ لکھا ہے
اس عہد میں انسان کی تکریم تو ہو نا
شکوہ نہ کبھی طنز کی بارش مرے دل پر
پہلے یہ تعلق تمھیں تسلیم تو ہو نا
مجھ کو بھی ذرا عار نہیں ملنے میں لیکن
اس آدمی کی آنکھ میں تعظیم تو ہو نا
بے شک وہ کوئی پھول کوئی تخفہ نہ لائے
لہجے میں مگر تھوڑی سی تکریم تو ہو نا
پھرتی ہے لیے ہجر کی تلوار محبت
سینے کا یہ پتھر کبھی دونیم تو ہو نا
میں کیسے رکھوں سر پہ ابھی تاجِ شہی کو
وہ ماہِ مجسم مری اقلیم تو ہو نا
سلیم فگار