کسی اِک وار پر جیسے وفا کی مات ٹھہری ہو کوئی دیوانگی جیسے لبِ جذبات ٹھہری ہو کسی اُلجھے ہوئے نکتے پہ آ کے بات ٹھہری ہو کسی تاریک لمحے پر گریزاں رات ٹھہری ہو کہ یوں خاموش سی خواہش مرے ہونٹوں پر ٹھہری ہے
ناصر ملک
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
شیخ خالد زاہد کا اردو کالم
میر حسن کی ایک اردو غزل