کسی اِک وار پر جیسے وفا کی مات ٹھہری ہو کوئی دیوانگی جیسے لبِ جذبات ٹھہری ہو کسی اُلجھے ہوئے نکتے پہ آ کے بات ٹھہری ہو کسی تاریک لمحے پر گریزاں رات ٹھہری ہو کہ یوں خاموش سی خواہش مرے ہونٹوں پر ٹھہری ہے
ناصر ملک
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
از پروفیسر اکرم ثاقب
وصال عباسی کی ایک اردو غزل