کسی اِک وار پر جیسے وفا کی مات ٹھہری ہو کوئی دیوانگی جیسے لبِ جذبات ٹھہری ہو کسی اُلجھے ہوئے نکتے پہ آ کے بات ٹھہری ہو کسی تاریک لمحے پر گریزاں رات ٹھہری ہو کہ یوں خاموش سی خواہش مرے ہونٹوں پر ٹھہری ہے
ناصر ملک
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی