کسی اِک وار پر جیسے وفا کی مات ٹھہری ہو کوئی دیوانگی جیسے لبِ جذبات ٹھہری ہو کسی اُلجھے ہوئے نکتے پہ آ کے بات ٹھہری ہو کسی تاریک لمحے پر گریزاں رات ٹھہری ہو کہ یوں خاموش سی خواہش مرے ہونٹوں پر ٹھہری ہے
ناصر ملک
میر حسن کی ایک اردو غزل
از قلم صنم فاروق حسین
تحریر : پیر انتظار حسین مصور
ایک اردو غزل از رشید حسرت