زمیں کی بات کرتے ہیں

سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم

زمیں کی بات کرتے ہیں نہ آسماں کی بات کرتے ہیں
حضورِ شاہِ کلِ جہاں کی بات کرتے ہیں

ہمارے آس پاس کی یہ روشنی انہی کے دم سے ہے
یہ زمزمے، یہ چاندنی انہی کے دم سے ہے
شعور و آگہی، یہ بندگی انہی کے دم سے ہے
عنایتیں، نوازشیں، کرم، عطا
بدن میں تازگی انہی کے دم سے ہے
یہ حسن یہ جمالِ دو جہاں
یہ سادگی انہی کے دم سے ہے
ناممکنات میں وہ ممکنات ہیں
مرا عقیدہ ہے
وہ مقتصد، وہ روح مقصدِ نظام کائنات ہیں
وہ دینِ حق کی شش جہات ہیں
وہ آئینہ جمال کی حیات ہیں
تمام منزلوں کے راستے انہوں نے اپنے ہاتھ سے بہم کیے
ستم سہے مگر کرم کیے
ہمیشہ مہرباں رہے، تو مہرباں کی بات کرتے ہیں
حضورِ شاہِ کلِ جہاں کی بات کرتے ہیں

یہ حکمتیں، یہ معجزے انہی کے فیض سے عیاں ہوئے
خوشا کہ ان کی اک
صدائے حق پہ بے زباں بھی ان کے ہم زباں ہوئے
دل و دماغ کو خبر کہاں!
کہ ان کے تذکرے کہاں کہاں ہوئے
سکونِ قلب مل گیا
یقیں کے قافلے رواں دواں ہوئے
جو ان کے نقشِ پا پہ چل دیے
زمیں پر رہ کے بھی وہ آسماں ہوئے
خدائے وحدہ کے ترجماں کی بات کرتے ہیں
حضورِ شاہِ کلِ جہاں کی بات کرتے ہیں

وہ چاند سے حسین ہیں
وہ آفتابِ علم و دین ہیں
وہ وارثِ علومِ اولین ہیں
وہ واقفِ امورِ آخرین ہیں
بلا شبہ وہ آخری مبین ہیں
وہ سید الانام ہیں
وہ مقتدائے کلِ جہان ہیں
یقینِ حق کی جان ہیں
ہمارے واسطے وہ سائبان تھے، وہ سائبان ہیں
سنو کہ سائباں کی بات کرتے ہیں
حضورِ شاہِ کلِ جہاں کی بات کرتے ہیں

شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔