یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی
یہاں خدا کا تصور کچھ اور ہے بھائی

سناؤ کیسے ہو کیسے ہیں چاند پر حالات
زمین پر تو وہی ظلم و جور ہے بھائی

کوئی پلک بھی جھپکتا نہیں تماشے میں
مداریوں کا طلسمانہ طور ہے بھائی

وطن کی صبح سے ہجرت کی رات دور نہیں
حرا سے چند قدم غار ثور ہے بھائی

تمہیں تو اذن سفر مل چکا مبارک ہو
ہمارا نام ابھی زیر غور ہے بھائی

جو کائنات کی چھت سے نظر کرو شاہدؔ
وہاں سے عالم حیرت ہی اور ہے بھائی

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں