یہ گئے دنوں کا ملال ہے

نوشی گیلانی کی ایک اردو نظم

یہ گئے دنوں کا ملال ہے

مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے
کہ شکست یوں بھی قبول ہے
کبھی حوصلے جو مثال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے حرف حرف کے جسم پر
جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے
مِری شاعری کے جہان کو
کبھی تتلیوں، کبھی جگنوؤں سے سجائے پھرتے
خیال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی
وہ جو شام شہر وصال میں
کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے
وہ نہیں رہے
جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں
مُجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا
وہ جو فاتحانہ خُمار میں
مِرے سارے خواب نہال تھے
وہ نہیں رہے
کبھی دشت لشکر شام میں
مِرے سُرخ رد مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے
کہ بس اب تو دل کی زباں پر
فقط ایک قصّۂ حال ہے—– جو
نڈھال ہے
جو گئے دنوں کا ملال ہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔