وقت گزرتا جا رہا ہے

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

گزرتے وقت کی اہمیت اور اس کا اندازہ ہمیں اللہ تبارک وتعالی نے خود اپنی کتاب یعنی قرآن مجید فرقان حمید میں کئی سورتوں اور آیتوں میں سمجھانے کی کوشش کی ہے جیسے سورہ العصر میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ

وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمہ کنزالایمان: : اس زمانۂ محبوب کی قسم بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

دراصل انسان کا نقصان یہ ہے کہ اس کی عمر جو اس کا اصل سرمایہ اور دولت ہے مسلسل ختم ہو رہی ہے۔ لہٰذا اِس سرمائے کو اچھے کاموں میں صَرف کرے اور نہ صرف خودکو بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تفسیر کبیر میں ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ میں نے سورہ عصر کا مطلب ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں بار بار صدا لگا رہا تھا کہ ” اُس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ گھلتاجارہا ہے۔ ” یہ صدا سُن کر میں نے کہا کہ یہ ہے اصل (اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) کا مطلب کہ جو زندگی انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گُزر رہی ہے ، اِس کو اگر ضائع کیا جائے یا غلط کاموں میں صرف کردیا جائے تو اِنسان کا خسارہ ہی خسارہ ہے
اب معاملہ یہ ہے کہ زندگی میں صرف ہمیں وہی کام کرنے چاہئیں جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے بیشک شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے ہمارے یہاں ایک کثیر تعداد لوگوں کی اس کے بہکاوے میں آکر گناہ در گناہ کرتے جاتے ہیں اور انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ” وقت گزرتا جارہا ہے ” ابھی وقت ہے سنبھل جائے اپنے کئے پر صدق دل سے نادم ہوکر پاک پروردگار کی بارگاہ میں توبہ کرلیں کہ توبہ کا دروازہ ہر انسان کے لئے اس کی آخری سانس تک کھلا ہوا ہے جبکہ انسان کی توبہ کا عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ وہ بخش بھی دیتا ہے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف بھی کر دیتا ہے بس وقت کے گزر جانے سے پہلے پہلے یہ عمل کرلو ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا اسلام کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کئی ایسے لوگوں کے بارے میں ہمیں واقعات اور ان کی زندگی کی تفصیلات ملیں گی جنہوں نے توبہ نہ کی پھر ان کے ساتھ میرے رب نے کیا معاملہ کیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک بڑی معروف حدیث ہے جو کنزالعمال اور دیگر احادیث کی کتابوں میں بھی موجود ہے جس کے راوی ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سب حضور ﷺ کی بارگاہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک بابا جی تشریف لائے وہ جب تشریف لائے تو ان کی بھنویں جو پوری سفید تھیں وہ بڑھ کر جیسے آنکھوں تک آچکی تھیں اور جب وہ جانے لگے تو میں نے پوچھا آپ کی عمر کیا ہے تو بولے 96 سال انہوں نے ہاتھ میں ایک چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھ چھڑی پر رکھ کر وہ ان پر جھکے ہوئے تھے کہتے ہیں جب وہ بزرگ مسجد میں داخل ہوئے تو میرے رسول ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا کھڑے ہو کر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کے بابا جی کو بازو سے پکڑا بٹھایا پھر فرمایا کہ بزرگوں کیسے آئے ہیں تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے وہ بابا جی بات کرتے تو آنکھ کھول کے پہلے حضور ﷺ کا چہرہ دیکھتے پھر وہ بات کرتے تو ان کے لب و لہجے کے اندر بڑی پریشانی بڑی تکلیف بڑی مایوسی تھی عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ زندگی ساری گناہوں میں بیت گئی ہے حضور غلطیاں ہی غلطیاں ہیں اے اللہ کے رسول بڑی لمبی فہرست ہے پاپ ہی پاپ ہیں کالے سیاہ دفتر ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پلٹ کے دیکھتا ہوں حضور مجھے نیکی دکھائی نہیں دیتی حضور اس عمر میں آپ کا ایک صحابی ملا ہے اس نے بات سمجھائی ہے تو تھوڑا خیال آیا ہے کہ ابھی تک ” وقت گزرتا جارہا ہے ” لیکن ابھی بھی وقت باقی ہے پھر انہوں نے تین باتیں عرض کیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میرا وجود بیکار ہو گیا ہے حضور بوڑھا ہو گیا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو میری کمر بھی سیدھی نہیں ہوتی کہ میں نماز ہی سیدھا کھڑا ہوکر پڑھ سکوں بوڑھا ہو گیا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میرے اندر طاقت نہیں کہ میں محنت مزدوری کر کے صدقے اور خیرات دے سکوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میں تلوار لے کے جہاد بھی نہیں کر سکتا حضور نہ میں لمبی نمازیں پڑھ سکتا ہوں آقا نہ میں صدقات و خیرات دے سکتا ہوں نہ دین کے لیے کوئی جہاد کر سکتا ہوں بیکار وجود ہے بیکار وجود کو تو گھر والے بھی برداشت نہیں کرتے بچے دعا کرتے کی یا اللہ ابا جی کو پردہ دے دے اما کو پردہ دے دے بیکار ہو گیا ہوں میں اور آ ج اگر آیا ہوں تو مجھ بیکار کو میرا رب قبول کر لے گا ؟ کسی کام کا نہیں نہ نماز نہ صدقات نہ جہاد کیا پھر بھی قبول کر لے گا ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جیسے برسات میں بارش کی جھڑی لگتی ہے یوں اس بوڑھے کی باتیں سن کر مصطفیٰ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی حضورﷺ کھل کے روئے کھل کے اور میرے حبیب پاک نے فرمایا بزرگوں بڑے مجاہد ہیں دین کے لیے جہاد کرنے والے بڑے ہیں رب کریم کو آپ کی تلوار کی اتنی حاجت نہیں اور فرمایا اس کے خزانے خالی نہیں ہیں کہ آپ ہی گویا صدقہ دیں گے تو بھرے جائیں گے اور فرمایا پھر رب کریم کی شان میں اضافہ نہیں کرتی عبادتیں وہ تو بندے کو نفع دیتی ہیں میرے بزرگوں نہ آپ جہاد کریں نہ آپ صدقات دیں اور نہ ہی لمبی نمازیں پڑھیں آپ صدق دل سے ایمان کی طرف آجائیں آجائیں اللہ کے رسول کا وعدہ ہے رب آپ کو بغیر حساب کتاب کے جنت عطا فرما دے گا آنا تو شرط ہے کہ نہیں آئیں تو صحیح نا پہنچیں تو صحیح اس کے دربار میں حاضر تو ہوں ایک بار بس شرط تو انا ہے پھر دیکھیں وہ رب کتنا کریم ہے کتنا رحیم ہے اور کس طرح بخشنے والا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس واقعہ میں ہمیں کتنا خوبصورت میسج ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں یہ عبادتیں تو ہمارے اعمال اور محشر میں ہمارے پلڑے کے وزن کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور یہ ہمارے ہی فائدہ کے لئے ہیں وہ مہربان رب تو یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے دین کے ساتھ چلیں اور بس وقت کو غلط کاموں اور گناہوں میں نہ گزاریں کیونکہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” اور وہ واپس کبھی نہیں آتا آپ اندازہ لگائیں کہ رب العالمین نے اپنی اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے ہر چیز کو وقت کا محتاج بنادیا سورج چاند تارے آسمان یہ پورا کا پورا نظام قدرت اپنے اپنے وقت پر اپنے فرائض انجام دیتا ہوا نظر آتا ہے یہ وقت ہی ہے جو نہ آپ ایڈوانس میں لے سکتے ہیں نہ ہی ادھار اور نہ ہی اس وقت کو کوئی خریدنے کی طاقت رکھتا ہے اور جو وقت گزر جاتا ہے وہ کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا اب دیکھئے کہ ” روزانہ صبح جب سور ج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت یہ اعلان کرتاہے کہ اگر آج کوئى نیکی کا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد مىں پلٹ کر نہىں آؤں گا” ۔

(شعب الاىمان باب فى الصىام ماجا وفى الىلة النصف فى الشعبان حدىث ۳۸۲۰۔ملخصا)

اسی طرح بخآری شریف کی ایک معروف حدیث مبارکہ ہے جس کا خلاصہ ہے کہ” حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے امت کی کثیر تعداد لوگوں کی ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی دو نعمتوں کے معاملہ میں دھوکے میں ہے بلکہ غافل رہتی ہے جس میں ایک ہے ” صحت” اور دوسری ” فرصت” ”
صحت اور فراغت۔(بخارى)
یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جب فارغ ہوتے ہیں تو چوراہوں پر فٹ پاتھوں پر یا چائے کی ہوٹلوں پر بیٹھ کر سوائے وقت کو برباد اور ضائع کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے انہیں اس بات کا قطعی طور پر احساس نہیں ہوتا کہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” اور ہم اسے ضائع کرنے میں مصروف عمل ہیں بالکل اسی طرح جب کوئی انسان صحت مند ہوتا ہے تو وہ اپنی صحت مندی اور تندرستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اور دینی کاموں میں اپنے آپ کو مصروف عمل رکھنے کی بجائے اس تندرستی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس وقت کو ضائع کر دیتا ہے اور لاغر اور بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات اور عبادتوں کا خیال آتا ہے جبکہ اس وقت اس میں وہ تندرستی اور چابک دستی نہیں ہوتی جو صحت مندی میں تھی اور اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کی سورہ التکاثر کی آیت نمبر 8 واضح فرمایا کہ
ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)
ترجمعہ کنزالایمان:: پھربیشک ضروراس دن تم سے نعمتوں کى پرسش ہوگى۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے ہمیں اس دنیاوی زندگی میں سرفراز فرمایا ہم نے ان نعمتوں کا صحیح استعمال کرکے اس رب العزت کا شکر ادا کیا یا ان نعمتوں کا غلط استعمال کرکے انہیں ضائع کردیا ہمیں بروز محشر اس جوابدہ ہونا پڑے گا ۔گزرتے وقت اور اس کی اہمیت پر یہاں دو اہم لوگوں کے اہم اقوال میں اپنی اس تحریر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اقوال کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے (امین) ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ ” یہ دن جو تم گزار رہے ہو یہ اصل میں تمہاری زندگی کے اہم صفحات ہیں ان صفحات کو اپنے اچھے اعمال سے زینت بخشو” ۔
حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
” اہل اللہ یعنی اللہ والوں سے صحبت کے نتیجے میں مجھے یہ بات سیکھنے کو ملی کہ وقت ایک تلوار ہے اگر تم اس کو اپنے نیک اعمال سے کاٹ لو تو ٹھیک ہے ورنہ یہ تمہیں فضولیات میں مصروف کرکے کاٹ دے گی ” ۔
ان دونوں اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر اس وقت کو ہم صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر عمل کرکے گزاریں تو اس کے صفحات کی زینت بڑھ جائے ورنہ یہ ایک ایسی تلوار کی مانند ہے جو ہمیں فضول کاموں میں مصروف کرکے ہمیں تباہ و برباد کرکے ہمیں کاٹتا رہے گا اور احساس تک نہیں ہوگا کہ ” وقت گزرتا جارہا ہے ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں شاید ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وقت جو ضائع کرنے کی وجہ سے وہ دوزخ کے قریب سے قریب اور جنت سے دور ہوتے جارہے ہیں اور اگر جنت میں چلے بھی جائیں تو انہیں ایک بار کا شدت سے افسوس رہے گا اس بات کی وضاحت صحیح البخاری کی اس حدیث میں موجود ہے جس میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” اہلِ جنّت کوکسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہوگا سوائے اُس ساعت (یعنی گھڑی ) کے جو (دنیا میں)اللہ پاک کے ذِکر کے بِغیر گزرگئی ”
(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۴ ص۲۲۲حدیث ۶۴۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت)۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس عارضی دنیا میں اپنی عبادت کے لئیے بھیجا ہے زندگی کو فضولیات میں صرف کرنے اور وقت کو ضائع کرنے کے لئے نہیں قربان جائیے ہمارے اسلاف پر جنہوں نے اللہ کے ذکر سے اپنی زبان کبھی خاموش نہیں کی حضرت سیدنا سُحَیْم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک تابعی بزرگ کے پاس گیا جن کا نام تھا حضرت عامر بن عبداللہ علیہ الرحمہ میں نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے لیکن نماز مختصر کرکے وہ میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا مجھے جلدی ہے اپنی ضروریات جلدی بیان کریں تو میں پوچھا کہ حضور کس بات کی جلدی ہے تو فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں دنیاوی کام میں مشغول ہوں اور ملک الموت میری روح قبض کرنے آجائے لہذہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں زیادہ تر وقت گزارتا ہوں تاکہ ملک الموت آئے تو میں عبادت میں مصروف ہوں جبکہ ہم اپنے وقت کو اپنے رب تعالیٰ کی عبادت سے زیادہ فضول گوئی میں گزارنے میں مصروف رہتے ہیں اور احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ
” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یاد رکھئیے کہ جو وقت گزر جاتا ہےوہ گزرا وقت کہلاتاہے،اس کے بارے میں افسوس کرنے کے لئیے بیٹھ جانا بھی وقت ضائع کرنےکاباعث ہوتا ہے۔ جووقت آیا نہیں ہےاس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، مگر جو وقت قابلِ استعمال ہےوہ یہی ہےجو آپ اس وقت گزار رہے ہیں،لہذا اپنے اس وقت کی قدر کیجئے اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں وقت وہ نعمت ہے جس کو نہ کوئی خرید سکتا ہے اور نہ کوئی بیچ سکتا ہے یہ بڑی انمول نعمت ہے اور یہ رکنے والی چیز نہیں بس گزرتے رہنے کا نام وقت ہے کام وہ کریں جس کا بروز محشر پچھتواہ نہ ہو اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے فرمودات پر گزاریں تاکہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر کسی بھی لمحے یہ افسوس نہ ہو کہ ” وقت تو گزرتا جارہا ہے ” ۔
جناب امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں وقت کی اہمیت کے بارے فرماتے ہیں کہ
(وَقْتُ الإِنسان هو عمره في الحقيقة)
(الداء والدواء:358)
”وقت ہی انسان کی حقیقی عمر ہے۔”

انسان کی عمر کا حساب وقت کے گزرنے کے حساب سے ہی ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی میں جتنا وقت گزر چکا ہوتا ہے وہی اس کی عمر ہوتی ہے۔ انسان کی ساری کی ساری زندگی وقت کے ساتھ ہی مربوط و مسلک ہے وقت کو الگ کر کے زندگی کا کوئی تصور اور کوئی حقیقت نہیں ہے تو معنی یہ ہوا کہ وقت ہی انسان کی حقیقی عمر اور زندگی ہے، جسے اپنی زندگی پیاری ہے اسے یقینًا وقت بھی پیارا ہوگا، جسے زندگی کی قدر ہے، اسے یقینًا وقت کی قدر ہوگی اور وقت کی قدر کا مطلب: اس کے ایک ایک منٹ اور ایک ایک سیکنڈ کی قدر ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی لئیے رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ وقت کی اہمیت اور اس کے ضائع نہ کرنے کی سختی سے ممانعت فرمائی جبکہ کئی احادیث مبارکہ سے بھی وقت کی قدر اور اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے لہذہ عقلمندی یہ ہی ہے کہ وقت جیسی قیمتی شہہ جو ضائع کرنے کی بجائے اس کی قدر کریں ورنہ کسی نے کیا خوب کہا کہ
” وقت کی وقت پر قدر کریں کیونکہ وقت کے پاس بھی اتنا وقت نہیں کہ آپ کو دوبارہ وقت دے سکے”.
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وقت کا ہر ہر لمحہ صرف اس کے اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی