شہر کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑی عمارت کھڑی تھی۔ اس عمارت میں سینکڑوں لوگ رہتے تھے۔ ہر طرف اینٹیں تھیں۔ پتھر تھے۔ لوہے کی سلاخیں تھیں۔ دُھواں تھا۔ شور تھا۔ درخت بہت کم تھے۔ چڑیاں اب کھڑکیوں پر نہیں بیٹھتی تھیں۔ تتلیاں کہیں کھو گئی تھیں۔
اسی عمارت کی ساتویں منزل پر علی رہتا تھا۔ اس کی عمر دس سال تھی۔ اس کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جس کا نام ایمن زھرا تھا۔ دونوں روز اسکول سے واپس آتے تو سیدھا فلیٹ کے اندر بند ہوجاتے۔ باہر کھیلنے کی جگہ نہ تھی۔ گلی میں گاڑیاں دُھواں چھوڑتی گزرتی تھیں۔ پارک میں اتنے لوگ ہوتے کہ تِل دھرنے کی جگہ نہ ملتی۔
ایک دن علی کھڑکی کے پاس بیٹھا آسمان دیکھ رہا تھا۔ چند پرندے دور اُڑتے دکھائی دیے۔ علی نے آہ بھری اور بولا:
"کاش ہمارے بھی پر ہوتے۔”
ایمن نے حیرت سے پوچھا:
"پر کیوں؟”
علی بولا:
"ہم بھی ان پرندوں کی طرح جنگلوں میں اُڑ جاتے۔ وہاں نہ شور ہوتا نہ دُھواں۔ صرف درخت ہوتے۔ ٹھنڈی ہوا ہوتی۔”
ایمن نے ہنس کر کہا:
"پھر ہم واپس نہ آتے۔”
دونوں بہن بھائی خاموش ہوگئے۔ کمرہ انھیں پنجرہ لگنے لگا۔ وہ خود کو قید جانور سمجھنے لگے۔
اگلے دن اسکول میں اُستاد نے پوچھا:
"بچو !بتاؤ ،تمہیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟”
کسی نے کہا موبائل، کسی نے کہا ویڈیو گیم، کسی نے کہا بڑا گھر۔
علی خاموش رہا۔ اُستاد نے پوچھا:
"علی تم کیوں چپ ہو؟”
علی آہستہ سے بولا:
"سر مجھے جنگل پسند ہے۔”
ساری کلاس ہنسنے لگی۔ ایک لڑکے نے کہا:
"جنگل میں تو شیر ہوتے ہیں۔”
علی نے جواب دیا:
"شیر سے زیادہ خطرناک تو یہ دُھواں ہے۔ یہ شور ہے۔ یہ گندی ہوا ہے۔”
علی کا جملہ سن کراُستاد خاموش ہوگیا۔ ان کی آنکھوں میں نمی آگئی۔
چُھٹی کے بعد اُستاد صاحب علی اور ایمن کو اپنے ساتھ شہر کے کنارے لے گئے۔ وہاں ایک چھوٹا سا باغ تھا۔ باغ میں چند درخت تھے۔ پرندے چہچہا رہے تھے۔ ہوا ٹھنڈی تھی۔ ایمن خوشی سے ناچنے لگی۔ علی گھاس پر لیٹ گیا۔
اُستاد جی بولے:
"بچو! انسان نے شہر تو بنا لیے۔ لیکن فطرت کو بھلا دیا۔ درخت کاٹے گئے، باغ ختم ہوگئے ، آبادی بڑھتی گئی اور عمارتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ بچے گھروں میں قید ہوگئے۔”
علی نے افسردہ ہو کر کہا:
"سر ،اب کیا ہوگا؟”
اُستاد جی مسکرائے اور بولے:
"جہاں چاہ وہاں راہ۔ اگر ہم سب مل کر درخت لگائیں تو یہ شہر پھر سے خوب صورت ہوسکتا ہے۔”
اگلے دن علی نے اپنے فلیٹ والی عمارت کے سبھی بچوں کو جمع کیا۔ سب نے مل کر خالی جگہوں پر پودے لگائے۔ کسی نے پانی ڈالا۔ کسی نے مٹی ڈالی۔ کسی نے ننھے پودوں کے گِرد لکڑیاں لگا کر باڑ بنائی۔
شروع میں لوگ ہنسے۔ ایک آدمی بولا:
"اُونٹ کے منہ میں زِیرہ۔ چند پودوں سے کیا ہوگا؟”
علی نے ہمت نہ ہاری۔ وہ روز پودوں کو پانی دیتا رہا۔ ایمن ان سے باتیں کرتی۔
کچھ مہینوں بعد وہاں ہری گھاس نکل آئی۔ ننھی چڑیاں واپس آنے لگیں۔ بچے اب شام کو موبائل چھوڑ کر نیچے کھیلنے آتے۔ عمارت میں پہلی بار قہقہے گونجے۔
ایک دن علی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پرندے اُڑ رہے تھے۔ اس نے مسکرا کر ایمن سے کہا:
"اب مجھے پر نہیں چاہیے۔”
ایمن نے پوچھا:
"کیوں؟”
علی بولا
"کیونکہ ہم نے اپنے شہر کو چھوٹا سا جنگل بنا لیا ہے۔”
محسن خالد محسنؔ