وبا جان لیوا , ادا جان لیوا

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

وبا جان لیوا , ادا جان لیوا
ہیں دونوں ہی میرے خدا جان لیوا

مری وحشتوں کو ذرا چین آئے
مرے دوست قصہ سنا جان لیوا

ہتھیلی پہ رکھ کے میں جان آ گیا ہوں
فنا کی طلب ہے, بلا جان لیوا

کئ دن سے اٹکی ہوئی ہے لبوں پر
دلاسے کی صورت دعا جان لیوا

جدائی , اذیت, ستم , بے وفائی
ہے کچھ اور بھی کیا بتا جان لیوا

شجر اور چراغوں کو بھاتی نہیں ہے
زمانے کی بدلی ہوا جان لیوا
مری خامشی کو نگل جائے ارشاد
سماعت کا گریہ صدا جان لیوا

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔