مکالماتی غزل
اس نے کہا؛ امیر کی دولت پہ بات کر
میں نے کہا؛ غریب کی اجرت پہ بات کر
اس نے کہا؛ امورِ سیاست پہ بات کر
میں نے کہا؛ کہ چھوڑ، محبت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ عشق میں رسوائیاں بھی ہیں
میں نے کہا؛ کہ جرات و ہمت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ دردِ جدائی ہے لا دوا
میں نے کہا؛ کہ درد میں لذت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ خواب میں تھاما تھا تیرا ہاتھ
میں نے کہا؛ کہ اس کی حقیقت پہ بات کر
اس نے کہا؛ عزیز ہے مجھ کو مری بہن
میں نے کہا؛ کہ حقِ وراثت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ چار دیواری میں قید رہ
میں نے کہا؛ کہ مجھ سے بغاوت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ دیکھ تو ظاہر کی آنکھ سے
میں نے کہا؛ کہ چشمِ بصیرت پہ بات کر
اس نے کہا؛ سکون میسر نہیں مجھے
میں نے کہا؛ کہ صبر و قناعت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ پائی ہے ورثے میں بزدلی
میں نے کہا؛ علی کی شجاعت پہ بات کر
اس نے کہا؛ کہ شکوہ کناں ہے خدا سے تُو
میں نے کہا؛ کہ اس کی انایت پہ بات کر
روبینہ شاد