تشنہ لبی میں گزری ہے یہ زندگی بہت
کرتا ہوں اس لیے بھی میں اب مے کشی بہت
سب کچھ عطا کیا ہے خدا نے مجھے مگر
محسوس یار ہوتی ہے تیری کمی بہت
سنتا نہیں ہوں بات میں اپنی بھی آج کل
خود سر ہوں یار دیکھو میں بھی واقعی بہت
رہتا نہیں خیال کسی کو کسی کا دوست
اب کے ہمارے شہر میں ہے بے کلی بہت
خواہش ہے یار مجھ سے کوئی مستفید ہو
سورج کی مثل مجھ میں بھی ہے روشنی بہت
اک دن سوال آئینے نے مجھ سے یہ کیا
لگتا ہوں آئینے کو میں کیوں اجنبی بہت
مرشد مرے ہیں جون میں ان کا مرید ہوں
کیونکر نہ ہو اداس مری شاعری بہت
فیاضؔ جانتا ہوں میں کتنے عفیف ہیں
دیکھے ہیں آپ جیسے میں نے آدمی بہت
فیاض ڈومکی