تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

تیراہ کے معاملے پر سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ حلقے جان بوجھ کر ایک عوامی فیصلے کو ریاستی جبر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حقیقت مگر اس کے بالکل برعکس ہے۔ تیراہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بند کمرے میں طے پانے والا حکم نہیں بلکہ مقامی عوام کی اجتماعی سوچ، جرگے کی مشاورت اور قبائلی عمائدین کے فیصلے کا نتیجہ ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تیراہ کے عوام نے دہشت گردی کا زہر برسوں پیا ہے۔ وہ خودکش دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، خوف اور عدم تحفظ کے دور سے گزر چکے ہیں۔ ان کے اسکول بند ہوئے، بازار اجڑے، اور نوجوان یا تو ہجرت پر مجبور ہوئے یا شدت پسندی کی آگ میں جھلسے۔ ایسے میں یہ تصور کرنا کہ وہ آج امن کے خلاف کھڑے ہیں، حقیقت سے لاعلمی کے سوا کچھ نہیں۔

تیراہ کے قبائلی عمائدین، معتبر جرگہ اراکین اور منتخب مقامی نمائندوں نے کھلے ماحول میں تفصیلی مشاورت کے بعد یہ طے کیا کہ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف جزوی کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ ہدف شدہ کلیئرنس آپریشن ہی وہ واحد راستہ ہے جو علاقے کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اسی اجتماعی فیصلے کے تحت عوام نے خود اس آپریشن کی حمایت کی اور عارضی نقل مکانی کو اپنی حفاظت کے لیے قبول کیا۔

یہ نقل مکانی کسی دباؤ یا جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح حفاظتی حکمت عملی ہے۔ مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ عام شہری کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہیں۔ دنیا بھر میں جہاں بھی شہری آبادی کے قریب سیکیورٹی آپریشن ہوتے ہیں، وہاں شہریوں کا انخلا ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ تیراہ میں بھی یہی اصول اپنایا گیا، مگر یہاں فرق یہ ہے کہ یہ فیصلہ عوامی رضامندی سے ہوا۔

ریاست کا کردار بھی اس پورے عمل میں واضح اور ذمہ دارانہ ہے۔ عارضی رہائش، مالی معاونت، ماہانہ اخراجات، راشن، طبی سہولیات اور ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے تحریری ضمانتیں دی گئی ہیں۔ یہ اقدامات اس تاثر کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں کہ عوام کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ ایک منصوبہ بند، منظم اور ذمہ دار عمل ہے، نہ کہ اچانک مسلط کیا گیا کوئی فیصلہ۔

اس کے باوجود کچھ مخصوص عناصر انسانی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر ایک منظم پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا مقصد عوام کے اس فیصلے کو متنازع بنانا اور دہشت گردوں کے لیے بالواسطہ ہمدردی پیدا کرنا ہے۔ یہ وہی پرانا حربہ ہے جس میں امن کی کوشش کو ظلم اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو جبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اب یہ بیانیہ اپنی کشش کھو چکا ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ اگر تیراہ کے عوام اس آپریشن کے خلاف ہوتے تو کیا جرگہ خاموش رہتا؟ کیا قبائلی معاشرے میں اجتماعی رائے کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ ممکن ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آج سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں، ان کا نہ تیراہ کی زمین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہاں کے عوام کی ترجیحات سے۔

امن ہمیشہ قربانی مانگتا ہے۔ یہ قربانی وقتی ہوتی ہے مگر اس کا ثمر نسلوں تک جاتا ہے۔ تیراہ کے عوام نے یہی سوچ کر فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان ماؤں نے کیا ہے جو اپنے بچوں کو خوف کے بغیر اسکول بھیجنا چاہتی ہیں، یہ فیصلہ ان بزرگوں نے کیا ہے جو اپنی زمین پر سکون سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اور یہ فیصلہ ان نوجوانوں نے کیا ہے جو بندوق نہیں بلکہ مستقبل چاہتے ہیں۔

تیراہ میں ہونے والا آپریشن دراصل ایک علاقے کو نہیں، ایک سوچ کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی کوشش ہے۔ یہ فیصلہ پروپیگنڈا کرنے والوں نے نہیں کیا، یہ فیصلہ عوام نے کیا ہے۔ اور جب عوام امن کے حق میں کھڑے ہوں تو تاریخ گواہ ہے کہ کوئی جھوٹا بیانیہ اس سچ کو شکست نہیں دے سکتا۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔