” توکل ” کیا ہے

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قادری سلسلے کے روحانی پیشوا حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی معروف تصنیف ” غنیتہ الطالبین ” سے مدد کے ساتھ اس تحریر کو آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کروں گا انشاء اللہ اس تحریر کو پڑھ کر ہم سب کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور زندگی میں اپنے رب کے قریب ہونے کا بھی موقع نصیب ہوگا ۔سب سے پہلے ہم ” توکل ” کا مطلب اور اس کی تشریح سمجھ لیتے ہیں دراصل توکل کا مطلب ہے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ، یقین اور اعتماد کرنا کہ وہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔ یہ صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا نام نہیں، بلکہ جائز اسباب و تدابیر اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے اور اس کی رضا پر راضی رہنے کا نام توکل ہے۔ اور اگر ہم اس کی تشریح کریں تو وہ یہ ہوگی کہ
اپنی کوشش و محنت پر اعتماد کرنے کے بجائے اسباب کو پیدا کرنے والی ذات (مسبب الاسباب) یعنی رب العزت پر بھروسہ کرنا توکل کہلاتا ہے ۔
حضرت سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے توکل کی تفصیلی تعریف بھی بیان فرمائی ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:توکل دراصل علم، کیفیت اور عمل تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔یعنی جب بندہ اس بات کو جان لے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے، تمام مخلوق، موت وزندگی، تنگدستی ومالداری، ہرشے کو وہ اکیلا ہی پیدا فرمانے والا ہے، بندوں کے کام سنوارنے پر اسے مکمل علم وقدرت ہے، اس کا لطف وکرم اور رحم تمام بندوں پر اجتماعی اعتبار سےاور ہربندے پر انفرادی اعتبارسے ہے، اس کی قدرت سے بڑھ کر کوئی قدرت نہیں، اس کے علم سے زیادہ کسی کا علم نہیں ، اس کا لطف وکرم اور مہربانی بے حساب ہے، اس علم کے نتیجے میں بندے پر یقین کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ وہ ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرے گا، کسی دوسرے کی جانب متوجہ نہ ہوگا، اپنی طاقت وقوت اور ذات کی جانب توجہ نہ کرے گا کیونکہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے، تو اس علم ویقین،اس سے پیدا ہونے والی کیفیت اور اس نتیجے میں حاصل ہونے والے بھروسے کی مجموعی کیفیت کا نام ”توکل” ہے۔
( نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۱۵۷)۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- ( پ۲۸، الطلاق:۳ )
ترجمعہ کنزالایمان:
”اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔”
اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
(وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۳)
( پ6 المائدۃ: 23 )
ترجمعہ کنزالایمان:
”اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔”
( نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۱۵۸)
اسی طرح حدیث مبارکہ میں بھی ہمیں توکل کی تلقین ملتی ہے جیسے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں”
( ترمذی 2344 )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے حج کے موسم میں اپنی امت کو خواب میں دیکھا تو میں نے اپنی امت کو اس حال میں دیکھا کہ ان سے میدان اور پہاڑ بھر گئے مجھے ان کی یہ حالت اور کثرت پسند آئی مجھ سے کہا گیا کہ آپ ﷺ راضی ہیں تو میں نے کہا ” ہاں ” تو کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستر ہزار اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے کہ یہ لوگ اپنے اوپر داغ نہیں لگواتے منتر نہیں کرواتے بلکہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس پر حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ انہیں بھی شامل فرمادے تو ایک اور صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرے تو فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں توکل کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے سارے معاملات اللہ رب العزت کے حوالے کردے اور رب تعالیٰ کے سپرد کردے اختیار و تدبیر کے اندھیروں سے پاک ہو اور صرف تقدیر الٰہی کی طرف قدم بڑھائے اور جب وہ ایسا کرلے تو وہ اپنی تقدیر سے مطمئن ہوجاتا ہے اسے یقین ہو جاتا ہے کہ جو اس کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جو کچھ اس کی تقدیر میں نہیں ہے وہ اسے مل نہیں سکتا پھر اسے سکون مل جاتا ہے اس کا دل سکون میں جاتا ہے وہ صرف اپنے مالک کی طرف نظریں جمائیں ہوئے ہوتا ہے اور اپنے مالک یعنی رب تعالیٰ کی مرضی پر خوش ہوتا ہے ۔ہمارے علماء اور فقہاء نے اپنے اپنے علم کے ذریعے توکل کے درجات کا ذکر کیا ہے حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس کتاب ” غنیتہ الطالبین ” میں توکل کے تین درجات تحریر فرمائیں ہیں پہلا درجہ ” توکل ” کہلاتا ہے دوسرا درجہ ” تسلیم ” جبکہ تیسرا درجہ ” تفویض ” کہلاتا ہے پہلا درجہ یعنی اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرنا اور رب العزت کے وعدے پر مطمئن ہونا ہے دوسرے یعنی تسلیم یہ ہے کہ رب العالمین کے علم پر اکتفاء کرنا جبکہ تیسرے درجے میں اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر راضی رہنا ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ توکل مومنوں کی صفت ہے تسلیم اولیاء کرام کی اور تفویض محدین کی یعنی توکل ابتداء ہے تسلیم درمیانہ اور تفویض انتہا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں توکل کے درجات کو مختلف اقوال میں تقسیم کردیا گیا ایک قول میں نے پیش کیا جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ توکل عام کی صفت ہے تسلیم خاص لوگوں کی جبکہ تفویض خاص الخاص لوگوں کی صفت ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ توکل انبیاء کرام کی صفت ہے تسلیم حضرت ابراھیم علیہ السلام کی جبکہ تفویض آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت ہے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو تسلیم کی صفت اس وقت حاصل ہوئی جب نمرود نے کافی اونچائی سے انہیں آگ میں ڈالا کئی فرشتے آئے لیکن حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ کی مرضی پر راضی رہے یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی مدد کرنے سے انکار کیا کی مجھے تمہاری حاجت نہیں مجھے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور وہ اگر چاہتا ہے کہ میں آگ میں جلوں تو میں جائوں گا اور اگر وہ مجھے بچانا چاہے گا تو اس سے طاقتور آگ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے اور میں اس کے حکم پر راضی ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے اسلاف کی نظر میں ” توکل ” کیا ہے آیئے پڑھتے ہیں
حضرت سہل بن عبداللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ توکل کے پہلے مقام پر بندہ کو اس طرح ہونا چاہیئے جیسے ایک غسل دینے والے کے ہاتھ میں مردہ وہ جس طرح چاہے اسے گھمائے اس کی اپنی کوئی تدبیر نہیں ہوتی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی نہ وہ کچھ سوچتا ہے نہ کوئی ارادہ کرتا ہے بس اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے ۔ حضرت ابراھیم خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ غیر اللہ سے نہ امید رکھے اور نہ اس سے کوئی خوف بلکہ زندگی کو ایک دن کی سمجھ کر گزارے اور دوسرے دن کا کوئی غم نہ ہو اسی طرح حضرت ابو علی روذباری علیہ الرحمہ جو حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے شاگردوں میں سے تھے فرماتے ہیں کہ توکل کے زمرے میں تین باتیں لحاظ طلب ہیں یعنی کچھ ملے تو شکر کرے کچھ نہ ملے تو صبر کرے اور تیسرا یہ کہ اس بات پر شکر کرے کہ اللہ تعالیٰ کو جو پسند تھا اس کے لیئے اس نے وہی کیا ۔حضرت جعفر خلدی علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں کہ ابراھیم خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کی سفر پر رواں دواں تھا تو راستے میں ایک وحشی شکل دیکھی میں رکا اور پوچھا کہ تم انسان ہو یا جن تو اس نے کہا کہ میں جن ہوں تو میں نے پوچھا بغیر سواری اور زادراہ کے تو کہنے لگا کہ ہم میں بھی کچھ لوگ توکل پر چلنے والے ہیں تو فرمایا کہ تم توکل کو کیا جانے ہو تو کہنے لگا کہ ہمارے نزدیک اللہ سے لینا توکل ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ توکل پر چلنے والا شخص صرف اپنے رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے اور باقی سب کچھ چھوڑ دے حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کر سامنے اپنی تدبیر کو فنا کردے اور اس بات پر راضی رہے کہ اللہ تعالیٰ ہی میرا مددگار حامی و ناصر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اللہ کافی کارساز ہے ۔بزرگ فرماتے ہیں کہ ذلیل بندہ جلیل رب پر بھروسہ کرے اکتفاء کرے جیسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی عنایت کو نہ دیکھتے ہوئے اپنے رب پر مکمل بھروسہ کیا ۔بزرگ فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرکے لاحاصل جدوجہد ترک کردے حضرت بہلول دانہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ بندہ متوکل کب بنتا ہے یعنی توکل کب حاصل کرتا ہے تو فرمایا کہ جب وہ مخلوق کے درمیان اپنے آپ کو اجنبی سمجھے اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ اپنے رب کا قرب حاصل کرلے ۔
توکل حاصل کرنے والوں میں ایک بہت بڑا نام حضرت حاتم اصم علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ آپ کو توکل کا یہ مقام کیسے حاصل ہوا تو فرمایا کہ جب میں نے چار باتوں پر یقین کرنا سیکھ لیا پہلا یہ کہ مجھے یقین ہوگیا کہ میری تقدیر میں میرے رب تعالیٰ نے جو رزق لکھ دیا ہے اسے کوئی اور نہ کھا سکتا ہے اور نہ مجھ سے چھین سکتا ہے لہذہ میں نے اس میں مشغول ہونا چھوڑ دیا دوسرا یہ کہ میرا کوئی عمل دوسرا انجام نہیں دے گا مجھے ہی دینا پڑے گا لہذہ میں اس میں مشغول رہتا ہوں تیسرا یہ کہ مجھے معلوم ہے کہ موت اچانک آئے گی لہذہ میں ہر وقت اس سے ملنے کے لیئے تیار رہتا ہوں اور چوتھا یہ کہ مجھے معلوم ہے کہ میرا رب میرے سامنے ہے لہذہ میں اس سے حیاء کرتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ہے حضرت ابن طاؤس یمانی علیہ الرحمہ اپنے والد طائوس علیہ الرحمہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی ایک مسجد کے پاس آیا اور اس نے اپنا بمعئہ سامان وہاں باندھ کر دعا مانگنے لگا کہ اے رب میرا اونٹ اور سامان تیرے حوالے یہاں تک کہ میں واپس نہ آجائوں یہ کہکر وہ وہاں سے اٹھا اور مسجد میں داخل ہوگیا فارغ ہونے کے بعد جب وہ باہر تشریف لایا تو اس کا سارا سامان بمعئہ اونٹ غائب تھا اس نے کہا کہ اے رب میرا تو کچھ بھی نہ گیا یہ سب تو تیرے یہاں سے چوری ہوا حضرت طاؤس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہم اس اعرابی کے ساتھ موجود تھے کہ ہم نے ابو قیس کے پہاڑ سے ایک شخص کو اترتے ہوئے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کے ساتھ سامنے سے آرہا ہے اور اس کا دائیاں ہاتھ کٹا ہوا تھا اور اس کی گردن سے لٹکا ہوا تھا وہ قریب آکر اعرابی سے مخاطب ہوا اور کہا کہ اپنا اونٹ اور سامان لیجیئے میں نے اس کے کٹے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر پوچھا کیا ماجرہ ہے تو اس نے کہا کہ میں قیس پہاڑ پر چڑھا تو مجھے ایک سوار نے روک لیا جو سیاہ و سفید سواری پر تھا مجھے کہا کہ اے چور اپنا ہاتھ آگے کر اس نے ایک پتھر پر میرا ہاتھ رکھا اور دوسرے پتھر سے اسے کاٹ کر میری گردن پر رکھ دیا پھر مجھ سے کہا کہ پہاڑ سے نیچے اترو اور یہ اونٹ بمعئہ سامان اس اعرابی کے حوالے کردو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ مکمل اعتماد اور توکل کی بڑی نشانی اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے گھر بیٹھ جائے اور اپنے اہل وعیال کے لیئے ذریعہ معاش کا حصول چھوڑ دے بلکہ وہ اپنی رزق کے حصول کی کوشش میں لگا رہے اس امید پر کہ میرا رب مجھے دے گا محنت خود کرے لیکن نتیجہ اپنے رب پر چھوڑ دے جیسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سرکار علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہ ﷺ میں اپنے اونٹ کو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑ دوں یعنی اللہ تعالیٰ پر توکل کروں تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں اس کو باندھو اور پھر اپنے رب پر بھروسہ کرو ۔ ایک طرف کہا گیا کہ توکل کرنے والا اس بچے کی مانند ہوتا ہے جس کے لیئے اس کی ماں کے پستان ہی سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتے ہیں بالکل اسی طرح متوکل بھی صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہی دوڑتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ ہی اس کی پہلی اور آخری پناہ گاہ ہے کچھ لوگ کا کہنا ہے کہ اپنے سارے شکوک وشبہات دور کرکے اپنے آپ کو بادشاہوں کے بادشاہ کے سپرد کردینے کا نام توکل ہے کچھ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے اس پر یقین رکھنا اور لوگوں کے پاس ناامید ہونا ہی توکل ہے کچھ کہتے ہیں کہ رزق کی تلاش میں اپنے دل و دماغ کو سوچ و بچار سے فارغ رکھنا ہی توکل ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہم اپنی مختصر اور عارضی زندگی میں نہ جانے کس کس پر اور کس کس طرح سے بھروسہ کرلیتے ہیں لوگ ہمارے بھروسے کو توڑ بھی دیتے ہیں لیکن وہ ذات جس پر بھروسہ کرکے نہ صرف ہم اپنی یہ عارضی دنیا سنوار سکتے ہیں بلکہ اپنی آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے اس پر توکل نہیں کرتے ورنہ رب العزت پر توکل کرنا اور مکمل بھروسہ کرنے کا اجر تو آپ نے آج کی اس تحریر میں پڑھ لیا ہوگا آج سے عہد کریں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں گے حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوکر صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیں گے اپنا ہر کام محنت دیانت اور شرعی اعتبار سے کرکے نتیجہ اپنے رب پر چھوڑ دیں گے یقیناً وہ رب ہمارے لیئے ہم سے بہتر فیصلہ کرتا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا اگر زندگی کے کسی بھی مسئلہ کا حل درکار ہو تو حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی یہ کتاب یعنی ” غنیتہ الطالبین ” ضرور پڑھیں انشاء اللہ نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کتاب کو پڑھ کر زندگی میں آپ کو بڑا لطف آئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی