انسانی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم نہ صرف انسان کو شعور عطا کرتی ہے بلکہ اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ آج کے جدید دور میں تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ہر میدان میں علم و ہنر کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسے میں نوجوان نسل کا تعلیم کی طرف سنجیدہ ہونا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہی نوجوان کل کے معمار اور مستقبل کے رہنما ہوتے ہیں۔
اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت بڑی واضح نظر آتی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کو اکثر صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ بہت سے نوجوان تعلیم کو صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی شخصیت کو نکھارنا، اس کے اندر اخلاقی اقدار پیدا کرنا اور اسے ایک ذمہ دار شہری بنانا ہوتا ہے۔ جب تعلیم کا مقصد صرف روزگار تک محدود ہو جائے تو معاشرے میں فکری پختگی اور مثبت سوچ پیدا نہیں ہو پاتی۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ نوجوان اگر صحیح تعلیم اور مثبت رہنمائی حاصل کریں تو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کئی ایسے مسائل موجود ہیں جو نوجوانوں کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تعلیمی سہولیات کی کمی، معاشی مسائل، اور تعلیمی نظام کی کمزوریاں نوجوانوں کو اپنے اصل مقصد سے دور کر دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کل نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا اور غیر ضروری سرگرمیوں میں حد سے زیادہ مصروف ہو چکا ہے۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن ان کا بے جا استعمال نوجوانوں کی توجہ تعلیم اور مطالعہ سے ہٹا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعہ کی عادت آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے تشویش ناک بات ہے۔
تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی سوچ اور کردار کو بہتر بناتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف اپنے لیے بہتر مستقبل بناتا ہے بلکہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بناتی ہیں اور نوجوانوں کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کرتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کی حقیقی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی دیں۔ اگر نوجوان نسل کو درست سمت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی باعثِ فخر بن سکتے ہیں۔
آخر میں یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں اور ان کی تعلیم سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر نوجوان علم، شعور اور مثبت سوچ سے آراستہ ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو۔ اس لیے ہمیں بطور معاشرہ یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو تعلیم کی طرف راغب کریں اور انہیں ایک روشن مستقبل کی طرف لے کر جائیں۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی