سنا جب ذکرِ جانانہ، تو عاشق تلملا اٹھے
ادھر چھیڑی غزل ہم نے، ادھر وہ مسکرا اٹھے
قیامت اف قیامت تھا، یوں قصداً روبرو آنا
جو ان کی اک جھلک دیکھی، تو ہم بھی لڑکھڑا اٹھے
وہ ایسا لطف تھا تیری نگاہِ دلربا میں کہ
تری محفل میں آ کر ہم، زمانے سے جدا اٹھے
وفاؤں کا صلہ ہم کو، ملا آخر ہے ایسا بھی
جنہیں اپنا سمجھتے تھےوہی دامن چھڑا اٹھے
مرے شعروں پہ سالک جوفقط سرکو ہلاتے تھے
ترے بے ساختہ جملوں پہ وہ بھی گنگنا اٹھے
محمد عمیر سالک