ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت کی سوانح حیات

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔

ابتدائی تعلیم انہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول برامجی موڑ سے حاصل کی۔ بعد ازاں مدرسہ نور القرآن سے عالمہ فاضلہ کا کورس مکمل کیا۔ علم و آگہی کا یہ سفر ابھی بھی جاری ہے اور وہ مسلسل سیکھنے کے عمل سے گزر رہی ہیں۔
انہیں کتابوں سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ یہی شوق ان کی شخصیت کی پہچان ہے۔ اسی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک کے شعراء اور ادباء بھی اپنی تصانیف انہیں بھیجتے ہیں۔ ثوبیہ راجپوت ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد کاروانِ قلم رائٹر فورم پاکستان کے پلیٹ فارم پر نہایت سنجیدہ اور عالمانہ تبصرے کرتی ہیں، جو اہلِ ادب کے لیے رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا باعث بنتے
ہیں۔
تعارف
ثوبیہ راجپوت ایک عہد ساز اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ آپ اپنی ذہانت، خوش اخلاقی، خوش مزاجی اور ملنساری کی وجہ سے ہر محفل کا مرکز قرار پاتی ہیں۔ پہلی ہی ملاقات میں اپنی سادگی اور خلوص سے دلوں کو جیت لینا آپ کی خاص پہچان ہے۔

ادبی و صحافتی خدمات

ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔
ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب” شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔

اعزازات

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی معزز اداروں کی جانب سے ایوارڈز، میڈلز اور شیلڈز سے نوازا گیا ہے، جن میں:

آل پاکستان رائیٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن (اپووا) لاہور سے ، بزمِ حمدونعت ، ، پہچان پاکستان ، بزمِ عرفانِ سخن ،کرائیڈن اکیڈمی ، پنجابی ادبی تنظیم سوچاں دی مہکار ، پروفیسر اصغر سودائی میموریل ایوارڈ ، اپووا خواتین ایوارڈ ، یحٰیی ایوارڈ ، محترمہ فاطمہ جناح ایوارڈ ، ایوارڈ براۓ اظہارِ تشکراپووا ، پاکستان لٹریری فورم ایوارڈ ، ویلفیئر سوسائٹیز ایوارڈ(شامِ سخن) ، اپووا خواتین کانفرنس 2023 ایوارڈ ، سانجھ پنجابی بیٹھک ایوارڈ ، دیا ویلفئیر سوسائٹی ایورڈ (دیا ایواڈ) ، پہچان پاکستان ایوارڈ ، آل پاکستان رائیٹر ویلفئیر ایسوسی ایشن ایورڈ 2024ء ، انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پاکستان (لاہور آرٹ کونسل) سے پرسنلی آف دی منتھ کا ایوارڈ ، ممبر آف لائینز کلب انٹرنیشنل بزنس کمیونٹی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں
اور دیگر قومی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے دیے گئے انعامات شامل ہیں۔

تنظیمی خدمات

ثوبیہ راجپوت نے کاروانِ قلم رائٹرز فورم پاکستان کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کی، جس کی وہ بانی و چیئرپرسن ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے تحت انہوں نے ملک بھر کے ناموراور حاص طور پر نۓ ادباء، شعراء اور نوجوان لکھنے والوں کے لیے مشاعروں اور پروگرامز کا انعقاد کیا۔ اسی سلسلے میں ایک کامیاب آل پاکستان نسائی مشاعرہ اور گاہے بگاہے انعامی پروگرامز بھی منعقد کرواتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ نامور ادبی تنظیم آل پاکستان رائٹر ویلفیئر ایسوسی ایشن میں خواتین ونگ کی نائب صدر بھی ہیں۔دی برج میڈیا یونائٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کے پلیٹ فارم پر پنجابی کے پیج کی انچارج ہیں۔

اہم ملاقاتیں

ادبی و تنظیمی امور کے حوالے سے ان کی ملاقاتیں گورنر پنجاب جناب بلیغ الرحمن اور جناب سلیم حیدر سے ہو چکی ہیں، جن میں ادبی و سماجی خدمات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

صحافتی پہچان

ان کی تحریریں قومی و بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں دی جذبہ پوسٹ (شکاگو) خاص طور پر نمایاں ہے۔ثوبیہ راجپوت ادبی تنظیم آل پاکستان رائٹر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے خواتین ونگ کی نائب صدر اور
برج میڈیا یو ایس اے میں بطور معاون ایڈیٹر کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں ۔۔
نیا قدم

جنوری2025ء میں ثوبیہ راجپوت نے کاروانِ قلم میگزین کا اجرا کیا جسے قارئین کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی

ثوبیہ راجپوت کی شخصیت ایک جامع، مثبت اور فکری روشنی کا استعارہ ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور خدمات کے ذریعے معاشرے میں علم و ادب کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں اور بلا شبہ وہ قابل احترام ادبی اور علمی شخصیت ہیں ۔

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔