شائرم انور شاہی

مدثر عباس کی ایک اردو تحریر

"شائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصور وقت”

"شائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصورِ وقت” کے تناظر میں اگر ہم اردو شاعری کی روایت کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ وقت محض ایک پیمانہ نہیں بلکہ ایک فکری، وجودی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ ادب چوں کہ زندگی کا ترجمان ہے، اس لیے سماجی تغیر، سیاسی بے یقینی اور تہذیبی بحران کے ادوار میں "وقت” ایک علامتی اور فلسفیانہ استعارے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

بیسویں صدی میں خصوصاً علامہ محمد اقبال اور مجید امجد نے وقت کو محض گردشِ لیل و نہار کے طور پر نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور کائناتی قوت کے طور پر پیش کیا۔ اقبال کے ہاں "سلسلۂ روز و شب” کائنات کا صَیرفی ہے—یعنی وقت انسان کے باطن کو پرکھتا اور اس کے وجود کی اصل قیمت متعین کرتا ہے۔ اقبال کے تصورِ وقت میں حرکت، ارتقا اور خودی کی تکمیل کا پہلو غالب ہے۔ وقت جامد نہیں بلکہ تخلیقی توانائی ہے جو انسان کو آزمائش کے عمل سے گزارتی ہے۔ اس لیے اقبال فرماتے ہیں

سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات

سِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں
جس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات

تُو ہو اگر کم عیار، مَیں ہُوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات

اسی روایت کا تسلسل ہمیں اکیسویں صدی کی شاعری میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں وجودی اضطراب، سماجی انتشار اور عورت کے استحصال جیسے موضوعات وقت کے وسیع تر تناظر میں سامنے آتے ہیں۔ ان شعرا میں ایک اہم نام شائرم انور شاہی کا ہے، جو اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں اظہار کرتی ہیں۔ ان کی نظم نگاری میں وقت ایک فعال اور جبر آمیز قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔

شائرم انور شاہی کے ہاں وقت کا تصور اقبال کے ارتقائی اور تحریکی تصور سے مختلف ہے۔ وہ وقت کو ایک ایسی لوح قرار دیتی ہیں جس پر ہر لمحہ مٹتی ہوئی لکیر کی مانند ثبت ہوتا ہے وہ لکھتی ہیں:

کائنات کا بے کراں در
جہاں وقت اپنی لوح پر
ہر جیتے لمحے کو
ایک مٹی ہوئی لکیر کی طرح لکھتا ہے

یہاں وقت تخلیق سے زیادہ فنا کا استعارہ ہے۔ لمحہ جیتے ہی مٹ جاتا ہے۔ وجود کا تسلسل دراصل عدم کے تسلسل میں بدل جاتا ہے۔ وقت کا یہ تصور جدید وجودی فکر سے قریب تر معلوم ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ہستی کے عدم تحفظ کا شدید احساس رکھتا ہے۔

اسی طرح نظم "وقت کے صلیب پر” میں انسان وقت کی گرفت میں مصلوب ہے—وہ اس سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ یہاں وقت ایک جابر قوت ہے جو انسان کو مسلسل تحلیل کرتی رہتی ہے۔

شائرم انور شاہی کے ہاں انسان "زمان و مکان” کے قیود میں مقید ہے۔ وہ کائنات کی طلسماتی ساخت—جو عدم سے وجود میں آئی—پر غور کرتا ہے مگر اس کے باوجود اس قید سے رہائی ممکن نہیں۔ یہ اضطراب دراصل جدید انسان کی ذہنی اور روحانی پراگندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یوںشائرم انور شاہی کی نظم نگاری میں تصورِ وقت نہ صرف ایک فکری مسئلہ ہے بلکہ ایک وجودی تجربہ بھی ہے۔ ان کی شاعری میں وقت انسانی بے بسی، سماجی جبر اور کائناتی اسرار کا سنگم بن جاتا ہے۔اُن کی یہ نظم ملاحظہ ہو:

"وقت کے صلیب پر”
میں نے وقت کو
ایک سنگین طلسم کی صورت دیکھا
ایسا طلسم
جو لمحوں کو قید کر دیتا ہے
شعور کے قفس میں۔

میں نے وقت کو
ایک صلیب، بے چہرہ دیو کی مانند پایا
جو ہر لمحے کو
اپنی آبنوں انگلیوں سے چیر کر
اس کے بدن پر صدیوں کی زنجیریں ڈال دیتا ہے
اور پھر اسے صلیب پر گاڑ دیتا ہے۔

میں نے ان لمحوں کی چیخیں سنی ہیں
جو فضا میں گونجتی ہیں
مدہم اذان کی مانند
جسے کوئی سننے والا نہیں۔

میں نے دیکھا
اس طلسم کو توڑنے والا
میرا اپنا دل
جو وقت کے گناہ کا مجرم ہے۔

اس نے لمحوں کو
کسی بے چہرہ سوداگر کے ہاتھوں
ایک خواب کے عوض فروخت کیا تھا۔

اب وقت کی صلیب پر
میری بینائی
میرا شعور
اور میرا نغمہ
سب کچھ لٹکا ہوا ہے۔

مگر میں جانتی ہوں
یہ صلیب بھی
ایک دن ریزہ ریزہ ہو جائے گی
اور وقت کا دیو
اپنی لاش خود اٹھائے گا۔

اس نظم میں وقت کا پس منظر وجودی کرب، داخلی احتساب اور انسانی کمزوریوں سے جڑا ہوا ہے۔ وقت کو ایک جابر قوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کے شعور اور خوابوں کو آزمائش میں ڈالتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ یقین بھی دیا گیا ہے کہ اس جبر کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس نظم میں وقت محض گھڑی کی سوئیوں کی حرکت یا دن رات کا گزرنا نہیں، بلکہ ایک جابر اور استعاراتی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
نظم میں وقت کو "سنگین طلسم” اور "صلیب” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعرہ کے نزدیک وقت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے لمحوں، احساسات اور شعور کو قید کر دیتا ہے۔ یہ پس منظر اس احساسِ بے بسی سے جڑا ہے جو انسان کو حالات، سماج یا تقدیر کے سامنے محسوس ہوتا ہے۔

وقت کو ایسا دیو دکھایا گیا ہے جو لمحوں کو "شعور کے قفس” میں بند کر دیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ انسان ماضی کی یادوں اور فیصلوں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔ یہاں وقت کا پس منظر نفسیاتی ہے—یعنی یاد، پشیمانی اور داخلی کشمکش ہیں۔

"صلیب” قربانی، اذیت اور سزا کی علامت ہے۔ وقت کو صلیب کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اپنی خواہشوں، خوابوں اور خطاؤں کی سزا وقت کے ہاتھوں بھگتتا ہے۔ گویا وقت ایک منصف بھی ہے اور جلاد بھی۔
شاعرہ کہتی ہے کہ یہ صلیب بھی ایک دن ٹوٹ جائے گی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت دائمی نہیں، بلکہ اس کا جبر عارضی ہے۔ پس منظر میں ایک انقلابی یا روحانی امید بھی موجود ہے۔

مدثر عباس
20 فروری 2026ء

مدثر عباس

مدثر عباس کا تعلق ضلع مردان کے نواحی علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ وہ جامعہ پشاور میں اُردو زبان و ادب(ایم فل) کے طالبِ علم ہیں اور علمی و فکری جستجو سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ تاریخ اور تاریخی کتب سے خاص شغف ان کے مطالعے کو وسعت بخشتا ہے، جب کہ مسلسل اور وسیع مطالعہ ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سیاسی، سماجی اور تاریخی موضوعات پر وقتاً فوقتاً قلم اُٹھاتے ہیں، جہاں ان کی تحریروں میں مطالعے کی گہرائی اور سنجیدہ فکری رجحان جھلکتا ہے۔