سیر کرنے کو میں کیوں جاؤں کہیں شام کے بعد
جب میسر ہے مجھے عرش بریں شام کے بعد
سیر کرنے کو میں کیوں جاؤں کہیں شام کے بعد
جب میسر ہے مجھے خلد بریں شام کے بعد
سب سمجھتے ہیں مجھے ہوں میں گنہ گار مگر
در پہ اس کے مری جھکتی ہے جبیں شام کے بعد
تیرے عاشق ہیں کہیں جائیں بھی تو جائیں کہاں
پڑے رہتے ہیں ترے در پہ یہیں شام کے بعد
دل ہے مصروف تیری یاد میں اب شام و سحر
روتی رہتی ہیں مری چشم حزیں شام کے بعد
روز کہتا ہوں ترا ہجر مقدر ہے مرا
دل مری بات سمجھتا ہی نہیں شام کے بعد
فیاض ڈومکی