سعیِ رائیگاں

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

کتنی ٹھنڈک ہے یہیں نہر کنارے بیٹھیں
دل بہل جائے گا اس میں بھی ہے مشکل کوئی
ننھے بزغالوں کی سبزے پہ کلیلیں دیکھیں
اپنے سواگت کو پون آئی ہے دھیمی دھیمی
کتنے اندوہ سے کر پایا ہوں ان کو رخصت
وہ بھی افسردہ و مضطر تھا نگاہیں بھی غمیں
سند با ادب کے تو ہمراہ مجھے بھی لے چل
(دل جو بہلا تو کتابوں ہی میں آ کر بہلا)
میں تیرے ساتھ زمانے کی نظر سے اوجھل
لے کے چلتا ہوں خیالوں کاسفینہا پنا
کیا خبر اب میں انھیں یاد بھی ہوں گا کہ نہیں
کاش میں نے ہی انھیں ایسے نہ چاہا ہوتا
کتنے ہنگاموں سے آباد ہیں گلیاں بازار
(کلفتیں شہر کے ماحول نے دھوئیں دل سے )
آج ہر چیز کی صورت پہ انوکھا ہے نکھار
اتنے چہرے ہیں کہ پہلے کبھی دیکھے بھی نہ تھے
اتفاقات سے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں کہیں
خام امیدوں سے بہلاؤں کا دل کو کیسے ؟
خام امیدوں سے بہلاؤں گا دل کو کیسے
اتفاقات سے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں کہیں
کتنے اندوہ سے کر پایا ہوں ان کو رخصت
دل بھی افسردہ و مضطر تھا نگاہیں بھی غمیں
کاش میں نے انھیں ایسے نہ چاہا ہوتا
اب تو شاید میں انھیں یاد بھی آؤں کہ نہیں

ابن انشاء

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔