صحافت جو کبھی (شاید کبھی) ایک پاکیزہ جذبہ، مظلوم کی آواز اور معاشرے کا آئینہ ہوا کرتی تھی، آج کل بلیک میلنگ، دشنام طرازی اور گھٹیا ترین ذہنی پستی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی میں صحافی بننے کے لیے علم، مطالعے، زبان پر عبور اور ایک طویل فکری تربیت کی ضرورت ہوتی تھی، مگر آج کے اس ڈیجیٹل دور میں اہلیت کا معیار بالکل بدل چکا ہے۔ آج ہر وہ شخص جس کے پاس ایک سستا سا موبائل فون ہے، جس کا انٹرنیٹ پیکج فعال ہے اور جسے یوٹیوب پر چینل بنانا یا فیس بک پر لائیو آنا آتا ہے، وہ راتوں رات خود کو ارسطوِ وقت، سینیئر تجزیہ نگار اور چیف رپورٹر سمجھنے لگا ہے۔ ان نوآموز اور خود ساختہ دانشوروں کی نظر میں رائی کے برابر کوئی عام سا واقعہ بھی ایک ایسا پہاڑ بن جاتا ہے جسے اچھال کر وہ سستی شہرت اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔
ابھی کل ہی کا واقعہ ہے، ایک کالج میں بارہویں جماعت کے طالب علموں کو امتحانی رول نمبر سلپس جاری کی گئیں اور انہیں امتحانات کی تیاری کے لیے کالج سے باقاعدہ فارغ (Free) کر دیا گیا۔ برسوں کی سخت محنت اور امتحانی دباؤ سے عارضی نجات پاتے ہی بچے فرطِ جذبات میں جھوم اٹھے۔ انہوں نے کالج کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی اپنی پرانی اور استعمال شدہ کاپیوں کے چند ورق ہوا میں اچھال دیے۔ یہ ایک ایسا فطری، معصومانہ اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں دیکھا جانے والا روایتی ردعمل تھا جسے کسی بھی صورت کوئی بڑا جرم یا اخلاقی زوال نہیں گردانا جا سکتا۔ مگر بدقسمتی دیکھیے کہ اسی دوران وہاں سے چند "موبائل بردار صحافی” گزرے۔ انہوں نے فوراً کیمرے نکالے، زمین پر بکھرے کاغذوں اور نعرے لگاتے بچوں کی ویڈیو بنائی، اور چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے سیدھے پرنسپل کے دفتر میں جا دھمکے۔ وہاں بیٹھ کر وہ ایک طویل تعلیمی و انتظامی تجربہ رکھنے والے سربراہِ ادارہ کو اخلاقیات اور بچوں کی تربیت کا درس دینے لگے کہ "دیکھیے! آپ نے بچوں کو یہ تربیت دی ہے؟ ہم یہ ویڈیو ابھی سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں اور حکامِ بالا کو دکھا کر آپ کی جواب طلبی کروائیں گے”۔ اور پھر آخر میں… بات وہی آ کر رکی جہاں اس پورے دھندے کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے، یعنی کوئی "لو لینی دے لینی” کی جائے، کوئی مک مکا ہو، ورنہ کیمرے کی توپ کا رخ ادھر ہی رہے گا۔
رائی کے ایسے مصنوعی پہاڑ روزانہ ہمارے آس پاس کھڑے کیے جاتے ہیں۔ کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں اگر کوئی ڈاکٹر کسی حادثے کے شدید زخمی مریض کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہو، اور اسی دوران کاؤنٹر پر بیٹھا کوئی کلرک کسی مریض کی پرچی کاٹنے میں دو منٹ کی تاخیر کر دے، تو یہ صحافی ڈاکٹر کی محنت کو پسِ پشت ڈال کر کلرک پر کیمرہ تان لیتے ہیں۔ "دیکھیے جی! غریبوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، ہسپتال تباہ ہو گئے، عملہ غائب ہے، وزیرِ اعلیٰ نوٹس لیں!”۔ ان کا مقصد نظام کی اصلاح نہیں، بلکہ انتظامیہ کو خوفزدہ کر کے اپنی مفت ادویات یا ذاتی اثر و رسوخ قائم کرنا ہوتا ہے۔
اسی طرح کسی سرکاری دفتر میں اگر کوئی بوڑھا کلرک شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے عالم میں پسینے سے شرابور، فائلوں کے ڈھیر میں گم، محض سستانے کے لیے دو منٹ کے لیے کرسی پر ٹیک لگا لے، تو یہ چھپ کر اس کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔ پھر سوشل میڈیا پر ٹائٹل چلتا ہے: "سرکاری ملازمین کے عیاشی کے مناظر، غریب عوام ذلیل و خوار، افسر شاہی سو رہی ہے”۔ وہ کلمہ گو یہ نہیں سوچتا کہ اس جھوٹی سنسنی خیزی سے ایک سفید پوش انسان کی نوکری اور عزت داؤ پر لگ جاتی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ سڑک کنارے کوئی غریب ریڑھی بان، جو تپتی دھوپ میں دو وقت کی روٹی کے لیے پیاز بیچ رہا ہو، اگر وہ اپنے ترازو کو درست کرنے کے لیے دو سیکنڈ لیتا ہے، تو یہ مائیک اس کے منہ میں ٹھونس دیتے ہیں: "بولیے! آپ عوام کو لوٹ رہے ہیں؟ انتظامیہ کہاں سو رہی ہے؟”۔ اس غریب کی غربت کا تماشا بنا کر یہ اپنے چینل کے لیے ویوز بٹورتے ہیں، مگر دوسری طرف بڑے بڑے مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے ان کے مائیک کی بیٹری اچانک ختم ہو جاتی ہے۔
پرائمری اسکولوں کا حال دیکھ لیجیے، جہاں کوئی معصوم استانی بچوں کو پڑھانے کے بعد تھکن سے چور ہو کر میز پر سر رکھ لے، یا کوئی استاد کلاس روم کا پنکھا خراب ہونے پر بچوں کو درخت کے سائے میں بٹھا کر پڑھانے لگے، تو یہ تعمیری پہلو دیکھنے کے بجائے چیخنا شروع کر دیتے ہیں: "اسکول مویشی خانہ بن گیا، بچوں کا مستقبل اندھیرے میں، ہیڈ ماسٹر معطل کیا جائے!”۔
یہ بلیک میلنگ، یہ سستی شہرت کی بھوک اور اخلاقی دیوالیہ پن اس جدید صحافت کا اصل چہرہ بن چکا ہے۔ کیمرے اور انٹرنیٹ کی طاقت نے ان کچے ذہنوں کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جسے وہ معاشرے کے معززین، اساتذہ اور اداروں کے خلاف بلا خوف و خطر استعمال کر رہے ہیں۔ جب تک ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی نہیں کی جاتی، اور جب تک سنسنی خیزی کے اس کاروبار کا بائیکاٹ نہیں کیا جاتا، تب تک معاشرے کا کوئی بھی عزت دار شہری، استاد یا افسر ان ڈیجیٹل ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
پروفیسر اکرم ثاقب