ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے اشکوں کے گرداب نہ ہوتے
دل کا شیشہ ٹوٹ نہ پاتا گر لہجے مضراب نہ ہوتے
سکھ کی منزل پاس کھڑی تھی دکھ کے جو اسباب نہ ہوتے
جینا مشکل ہو جاتا جو مرنے کے آداب نہ ہوتے
تحریریں بے کیف ہی رہتیں چاہت کے گر باب نہ ہوتے
ثمر راحت ثمر
وصال عباسی کی ایک اردو غزل
تمہید الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام على محمد النبی الأمین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔…
ایک اردو تحریر از عابد ضمیر ہاشمی
تحریر : سہیل احمد صمیم
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل