ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے اشکوں کے گرداب نہ ہوتے
دل کا شیشہ ٹوٹ نہ پاتا گر لہجے مضراب نہ ہوتے
سکھ کی منزل پاس کھڑی تھی دکھ کے جو اسباب نہ ہوتے
جینا مشکل ہو جاتا جو مرنے کے آداب نہ ہوتے
تحریریں بے کیف ہی رہتیں چاہت کے گر باب نہ ہوتے
ثمر راحت ثمر
ایک اردو غزل از رشید حسرت
ایک اردو غزل از طارق قمر
اکرم ثاقب کا ایک اردو کالم
شیخ خالد زاہد کا اردو کالم