ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے اشکوں کے گرداب نہ ہوتے
دل کا شیشہ ٹوٹ نہ پاتا گر لہجے مضراب نہ ہوتے
سکھ کی منزل پاس کھڑی تھی دکھ کے جو اسباب نہ ہوتے
جینا مشکل ہو جاتا جو مرنے کے آداب نہ ہوتے
تحریریں بے کیف ہی رہتیں چاہت کے گر باب نہ ہوتے
ثمر راحت ثمر
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل
میر حسن کا ایک اردو کالم
حسنین رافی کی ایک اردو غزل