پروفیسر محمد فرید کی ہندکو شاعری کی کتاب” سیتی دی سیت” : فکری، ثقافتی اور تصوفانہ جہتوں کا عکس
جب ہندکو زبان ابھی ادبی میدان میں اپنے پاؤں جما رہی تھی، اور جب اس خطے کے بیشتر لکھنے والے صرف اردو کو اظہار کا وسیلہ بناتے تھے، ایسے میں پروفیسر محمد فرید نے چند اور دوستوں کے ساتھ ملکر وہ جرات مندانہ قدم اٹھایا جس کی بدولت آج ہندکو زبان کے ادبی افق پر ان کا نام روشن ستارے کی مانند چمک رہا ہے۔ اَسی کی دہائی میں جب ہندکو شاعری کو کتابی صورت میں محفوظ کرنے کا رجحان ناپید تھا، تب
ان کی تازہ کتاب "سیتی دی سیت” نہ صرف اپنے منفرد اسلوب اور بیان کی وجہ سے ایک بہترین کتاب ہے بلکہ اس میں کئی ایک فکری، لسانی اور روحانی بنیاد بھی فراہم کی جو نئے لکھنے والوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جہاں کہیں تصوف کی کرنیں روشن ہو رہی ہیں،کہیں روایت کا جگمگاہٹ ہے، کہیں ثقافتی لہروں کا عکس ہے۔
گلاں ہوئیاں پہل نہ ہکدا
تیرے پاسے جل نہ ہکدا
۔۔۔۔۔
چن نال کھیڈاں لو نال کھیڈاں
ہک آں میں تے دو نال کھیڈاں
۔۔۔۔۔۔۔
راتی آ جل فزری آ جل
جلدے جلدے نظری آ جل
۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر محمد فرید محض شاعر نہیں بلکہ فزکس کے استاد بھی ہیں، جنہوں نے مادے کی حرکات و سکنات کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا مرکز بنایا۔ مگر جب وہ قلم اٹھاتے ہیں تو الفاظ میں محض سائنسی تجزیہ نہیں، بلکہ صوفیانہ تجربات، روایت کی گونج، اور انسانی جذبات کا گہرا سمندر امڈ آتا ہے۔ یہی ان کا اصل کمال ہے: علم، وجدان، روایت اور علاقاٸی ثقافت کو ایک نکتے پر جمع کر دینا۔
"سیتی دی سیت” کا مطالعہ ہمیں ایک ایسے شاعر سے روشناس کراتا ہے جو اپنی دھرتی کی خوشبو سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی شاعری میں اپنی علاقاٸی ثقافت کے رنگ، علاقائی محاوروں کی مٹھاس، اور رشتوں کی حرارت رچی بسی ہے، جو لطف کو دوبالا کرتی ہے۔ وہ عشقِ مجازی سے لے کر عشقِ حقیقی تک کے مدارج کو نہایت فطری انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں تصوف کا عکس صرف خیالوں یا تشبیہوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک زندہ تجربہ بن کر ابھرتا ہے۔
ان کی شاعری میں بارہا ایسے استعارے آتے ہیں جو فزکس اور روحانیت کو بیک وقت چھوتے ہیں۔ جیسے روشنی، توانائی، وقت، فاصلہ — یہ سب ان کے لیے محض سائنسی اصطلاحات نہیں بلکہ روحانی کیفیات کے استعارے بھی ہیں۔ وہ جس طرح ایک سائنس دان کے طور پر مادے کی تہوں میں جھانکتے ہیں، اسی طرح ایک صوفی کے طور پر روح کی تہوں کو بھی کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پروفیسر فرید کی ایک اور نمایاں خصوصیت انسان دوستی ہے۔ ان کے ہاں فرد کی اہمیت، رشتوں کی قدر، اور معاشرتی ہم آہنگی کا گہرا شعور موجود ہے۔ وہ ہندکو کے شاعر ضرور ہیں، مگر ان کا پیغام عالمگیر ہے۔ وہ زبان کی قید سے آزاد ہو کر دلوں کو جوڑنے والے شاعر ہیں۔ ان کے ہاں ماں کی ممتا، باپ کی قربانی، بہن کی شرم، بھائی کی محبت — سب کچھ ایک وجدانی تسلسل میں بندھا ہوا ملتا ہے۔
"سیتی دی سیت” کو محض ایک شعری مجموعہ کہنا اس کتاب کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ دراصل ایک تہذیبی دستاویز ہے — ایک ایسی دستاویز جو ہندکو زبان کے فکری سفر، ثقافتی تنوع، روحانی گہرائی، اور سائنسی شعور کا مشترکہ مظہر ہے۔
پروفیسر محمد فرید کا ہندکو ادب میں نمایاں قدم اس وقت اُٹھا جب زبان کی شناخت خود ایک سوال بنی ہوئی تھی۔ انہوں نے نہ صرف اس زبان کو کتابی صورت دی(باقی ہم عصر /اولین لکھاریوں کی طرح) بلکہ اسے فکری وقار بھی بخشا۔ ان کی شاعری آج بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کسی زبان میں شعور، وجدان اور اظہار کی گنجائش ہو تو وہ کسی بھی عالمی زبان سے کم نہیں۔
"سیتی دی سیت” پروفیسر محمد فرید کی فکری، روحانی اور ثقافتی بصیرت کا شاہکار ہے۔ یہ کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ روح کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ شاعر جو فزکس کا استاد بھی ہو، صوفی مزاج بھی ہو، روایت سے جڑا ہوا بھی ہو، اور انسان دوستی سے لبریز بھی — ایسا فنکار واقعی ہندکو کا سرمایہ بھی ہیں۔
چند اشعار دیکھیں
جتنا بالنے بال میں رہساں
بلدا تیرے نال میں رہساں
اتنا کچا بت نینھ میرا
گزرن لکھاں سال میں رہساں
ہسدا کرکے کول میں تیرے
کالے رنگ دے خال میں رہساں
جس جاء جل توں بستی لاسیں
اُس جاء بسدا نال میں رہساں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہتھ نینھ آیا تے پیراں چھالے رہ گیے
لوکاں دے پرواسے ٹُرنے والے رہ گیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل دی ماہیا جانڑ نہ ہکیا
گل میں مونہہ تے آنڑ نہ ہکیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گل ہک نویں چھوہ کے دیخاں
ہک ہک تارا کھوہ کے دیخاں
۔۔۔۔۔۔۔
ماضی آ کے حال تے رُکیا
یاداں کہن کے نال تے رُکیا
جگ بے سرتا ہو کے سارا
ہرنی والی چال تے رُکیا
سہیل احمد صمیم