پہلے پہلے کب بدلا تھا

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

پہلے پہلے کب بدلا تھا
میرے ساتھ وہ اب بدلا تھا

جینا جب دشوار ہوا تو
جینے کا پھر ڈھب بدلا تھا

دنیا بدلی لیکن دیکھو
خود بدلی تو سب بدلا تھا

لوگ تو پہلے والے تھے پر
لوگوں نےمطلب بدلا تھا

دیکھ کے دو مخمور نگاہیں
منظر پچھلی شب بدلا تھا

اس نے دیکھا مجھ کو ہنس کر
دل کا موسم تب بدلا تھا

دل نے فوراً جانا عنبر
تو نے چہرہ جب بدلا تھا

فرحانہ عنبر

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔