پاکستان اور افغانستان کے تعلقات

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات: مسائل، پس منظر اور ممکنہ حل
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ ہمیشہ نازک اور پیچیدہ رہی ہے۔ سرحدی تنازعات، قبائلی علاقوں کی خودمختاری، دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت اور باہمی اعتماد کی کمی نے ان تعلقات کو مسلسل کشیدہ رکھا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کی تسلیم نہ ہونے کی تاریخی بنیاد، افغان حکومتوں کی جانب سے پاکستان میں مبینہ مداخلت کے الزامات، اور پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں سے متعلق تحفظات نے باہمی تعلقات میں ایک مستقل دراڑ پیدا کی ہے۔ یہی عناصر گزشتہ دہائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو باثبات بنانے میں رکاوٹ کا سبب بنتے رہے ہیں۔

دوحہ امن معاہدے ۲۰۲۱ کے بعد تعلقات میں بہتری کی توقع کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور وہاں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔ تاہم طالبان حکومت نے داعش، خراسان، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے میں ناکامی ظاہر کی ہے۔ طالبان کا مذاکراتی وفد اکثر اپنے لیڈروں کی اجازت کے بغیر فیصلے کرنے پر مجبور رہتا ہے، جس سے مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور پاکستان میں تشویش میں اضافہ ہوتا ہے۔

حالیہ مذاکرات کے حوالے سے، استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ پاکستان نے ترکی اور قطر کی ثالثی پر شکریہ ادا کیا، مگر طالبان کی طرف سے تحریری اور عملی وعدے حاصل نہیں ہو سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان افغان عوام کے لیے خیر سگالی کا جذبہ رکھتا ہے، مگر طالبان کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نقصان دہ ہوں۔ پاکستان اپنی خود مختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

سکیورٹی اور دہشت گردی کے مسائل

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں بنیادی موضوع دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی اور سرحدی تحفظ رہا ہے۔ پاکستانی وفد نے فتنہ الخوارج کے حوالے سے شواہد بھی ثالثوں کے سپرد کیے، مگر طالبان تحریری معاہدہ دینے پر تیار نہیں۔ طالبان کی دوہری پالیسی اور مذاکراتی وفد کا اپنے لیڈروں سے اجازت لینے پر مجبور ہونا پاکستان کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

چمن بارڈر اور دیگر سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات تعلقات میں کشیدگی بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ذمہ دارانہ جواب دیتی ہیں، مگر طالبان تعاون نہیں کرتے۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ طالبان کی قیادت یہ تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کو مکمل کنٹرول نہیں کر سکتی۔ اگر وہ یہ تسلیم کر لیں تو پاکستان کے ساتھ مشترکہ کارروائی اور معلوماتی تعاون ممکن ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں استحکام اور امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔

اقتصادی اور تجارتی پہلو

افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے تعاون کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں۔ افغانستان کے تجارتی راستے زیادہ تر پاکستان کے راستوں سے گزرتے ہیں۔ ایران کے ساتھ سرحد ہونے کے باوجود پاکستان کے راستے زیادہ بہتر اور کم خرچ ہیں۔ وسط ایشیا کے ساتھ افغانستان کی تجارت بھی اسی صورت میں فروغ پا سکتی ہے جب وہاں امن قائم ہو، تجارتی راستے کھلے ہوں اور ایک ذمہ دار حکومت قائم ہو جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے۔

افغانستان کی عبوری حکومت عالمی سطح پر محدود طور پر تسلیم شدہ ہے۔ چند ممالک اپنے مفادات کے تحت اس کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں، مگر ان کا مقصد افغانستان میں امن قائم کرنا یا افغان عوام کی خوشحالی نہیں ہے۔ اس پس منظر میں، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت سے واضح اور عملی اقدامات کا مطالبہ کرے اور خطے میں استحکام کے لیے مستقل دباؤ قائم رکھے۔

سفارتی تعلقات اور ثالثی

ترکی اور قطر کی ثالثی نے مذاکرات میں سہولت فراہم کی ہے، مگر طالبان پر مؤثر دباؤ بڑھانے میں محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ طالبان بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں اور وہاں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان کے لیے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے خطرہ ہے کیونکہ خطے میں طاقت کے توازن اور سرمایہ کاری کے اثرات بھی تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ثالث ممالک کو طالبان پر واضح اور مضبوط دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو۔

موجودہ صورتحال کا جائزہ

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں اعتماد کی کمی، سرحدی تحفظ کے مسائل، دہشت گردی، طالبان کی دوہری پالیسی، ثالثی کی محدود کامیابی اور اقتصادی وابستگی بنیادی عوامل ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج طالبان حکومت کی غیر مؤثر کارروائی اور افغانستان میں بدامنی کا تسلسل ہے، جس سے نہ صرف پاکستانی شہری متاثر ہوتے ہیں بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

تجاویز اور ممکنہ حل

1. سرحدی تحفظ اور سکیورٹی: پاکستان کو اپنی سرحدوں پر مکمل نگرانی اور حفاظتی اقدامات جاری رکھنے چاہئیں۔ افغان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات پر مجبور کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھانا ہوگا۔

2. اقتصادی تعاون: افغانستان کی ترقی کے لیے پاکستان کے راستوں کو فعال رکھنا ضروری ہے۔ تجارتی اور اقتصادی منصوبے دونوں ممالک کے مفاد میں ہوں تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو۔

3. مذاکرات میں مؤثر ثالثی: ثالث ممالک کو طالبان پر واضح اور مضبوط دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں اور خطے میں دیرپا امن قائم ہو۔

4. علاقائی تعاون: خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان، افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ آپریشن خطے کی سکیورٹی کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

5. عوامی تعلقات اور خیر سگالی: پاکستان کو افغان عوام کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات برقرار رکھنے چاہئیں، تاکہ عوامی سطح پر تعلقات بہتر ہوں اور افغان طالبان حکومت پر مثبت اثر پڑے۔

6. تعلیمی اور معاشرتی تعاون: دونوں ممالک کے عوام کی تعلیم، ثقافت اور معاشرتی ترقی میں تعاون بڑھانا ضروری ہے، تاکہ ایک مثبت اور دیرپا تعلق قائم ہو۔

حرفِ آخر

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کے لیے صرف مذاکرات کافی نہیں ہیں۔ عملی اقدامات، اعتماد سازی، دہشت گرد گروہوں پر کنٹرول، سرحدی تحفظ اور اقتصادی تعاون کے ذریعے ہی تعلقات مضبوط ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں ایک ذمہ دار حکومت قائم ہو، امن قائم ہو اور دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت روکی جائے۔ اسی صورت میں دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم ہوں گے اور خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا۔ پاکستان کے موقف کی مضبوطی، بین الاقوامی تعاون اور واضح حکمت عملی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک نئے اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر استوار ہوں۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔